ہمارے ملک آئیں! ماریشس نے پاکستانیوں کو بڑی پیشکش کردی

پاکستان میں تعینات ماریشس کے قائم مقام ہائی کمشنر میرون نادراجن چیدیمبارم نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں کاروبار کرنے کے عمدہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماریشس جنوبی و مشرقی افریکہ میں داخل ہونے کیلئے ایک گیٹ وے کا درجہ رکھتا ہےاور پاکستان ماریشس کے ساتھ قریبی تعاون فروغ دے کر ان ممالک کی منڈیوں تک آسان رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماریشن بھارت اور چین سے بہت سی مصنوعات درآمد کررہا ہے جبکہ پاکستان بھی اپنی مصنوعات کا معیار بہتر کر کے ماریشن کے ساتھ اپنی برآمدات کو بہتر فروغ دے سکتا ہے۔

قائم مقام ہائی کمشنر نے کہا کہ ماریشس سیاحت کے لئے ایک پر کشش ملک ہے کیونکہ ہر سال تقریباً 15 لاکھ سے زائد سیاح ماریشس کا دورہ کرتے ہیں اور کہا کہ پاکستان کے سرمایہ کاروں کے لئے ماریشس کی ہوٹل صنعت میں سرمایہ کاری کے اچھے خاصے مواقع موجود ہیں لہذا دونوں ممالک کو چائیے کہ ان مواقعوں سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے وہ سیاحت کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور معاشی تعلقات کو مذید مستحکم کرنے کے لئے پاکستان کے نجی شعبے کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر خالد اقبال ملک نے کہا کہ پاکستان اور ماریشس نے 2007 میں ترجیحی تجارت کا معاہد ہ کیا تھا جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی بہت سی مصنوعات کو رعائتیں فراہم کیں تھیں تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت دونوں کی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے

انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو چائیے کہ وہ نجی شعبوں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ باہمی تجارتی حجم میں بہتری لائی جا سکے۔سلا م آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سنیئر نائب صدر خالد ملک نے ماریشس کے قائم مقام ہائی کمشنر میرون نادراجن چیدیمبارم کو چیمبر آمد پر خوش آمدید کہا اور تاجر برادری کے ساتھ ان کاتفصیلی تعارف کرایا ۔ اسلا م آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر طاہر ایوب، ظفر بختاوری، شوکت علی، ناصرہ علی، راجہ عبدالمجید، شیراز صدیقی ، خالد چوہدری، نثار مرزا اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور پاکستان و ماریشس کے درمیان باہمی تجارت کو بہتر کرنے کے بارے میں مفید تجاویز دیں۔