کوئٹہ کا کھویا ہوا جلال واپس آنے لگا

صوبائی دارالحکومت کا کھویا ہوا جلال اور خوبصورتی واپس بحال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے حکومت بلوچستان نے شہر بھر میں آرٹ کے اعلیٰ نمونے کھڑے کیے ہیں۔ شہر میں مکران کی امیدوں کی شہزادی، قائد اعظم محمد علی جناح کی زیارت کی رہائش گاہ، قومی جانور مارخور، اور قومی پرندے چکور سمیت بلوچستان کے کلچر و ثقافت کو بیان کرنے والے آرٹ کے نمونے نصب کیے گئے ہیں۔

آرٹ کے یہ نمونے ایئرپورٹ روڈ اور اس کے ملحقہ علاقوں کے روڈوں اور چوراہوں پر کھڑے گئے ہیں، جب کہ کوئٹہ کو خوبصورت بنانے کے اس منصوبے کے لیے حکومت بلوچستان نے 5 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں۔ آرٹ کے ان شاہکاروں سے جہاں شہر کی خوبصورتی بحال ہوئی ہے، وہیں شہری اور سماجی کارکنان، اداکار اور آرٹ سے دلچسپی رکھنے والے افراد بھی خوش دکھائی دے رہے ہیں۔

آرکیٹک اور ماڈل طارق لونی نے ڈان نیوز سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس منصوبے کو اچھا قرار دیا، اور کہا کہ ’ہم ایئرپورٹ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو خوبصورت بنانا چاہتے ہیں تاکہ یہاں آنے والے لوگ اپنی آنکھوں سے کوئٹہ کی خوبصورتی اور کلچر کو دیکھیں، اور جاتے جاتے اس کے سحر میں ڈوب جائیں۔

کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدور کا ماڈل—فوٹو: عاصم خان

انہوں نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ کے اس علاقے میں آرٹ کے نمونوں کو نصب کیا جانا ہمارے اس منصوبے کا چھوٹا سے حصہ ہے، جس کے ذریعے ہم کوئٹہ کو پھر سے پاکستان کا پیرس بنانے جا رہے ہیں۔

ان نمونوں کو دیکھنے کے لیے آنے والے ایک شہری زبیر احمد نے اس منصوبے پر حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے مجھے میرے بچپن کا کوئٹہ شہر ملا، جو خوبصورت تھا۔

ان آرٹ کے نمونوں کے ساتھ خصوصی لائٹس بھی نصب کی گئی ہیں، تاکہ رات کے اوقات میں یہ مزید خوبصورت نظر آئیں۔ زیادہ سے زیادہ سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے آرٹ کے نمونوں کے علاوہ شہر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، پارکس کی بحالی اور حفظان صحت کے دیگر منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔

Asim Khan