آپ کو ‘پنجاب نہیں جاؤں گی’ کیوں دیکھنی چاہئے ؟

کیا آپ ہمایوں سعید سے امید کرسکتے ہیں کہ وہ خود اپنا مذاق اڑائیں گے؟ میں تو نہیں کرسکتی۔ اس وقت پاکستانی باکس آفس پر حکمرانی کرنے والے چند ایک اداکاروں میں سے ایک ہمایوں سعید کے سنجیدہ، رومانوی اور مرکزی کردار ادا کرنے کا انتخاب ان کی شخصیت کو بیان کرتا ہے۔

اس لیے میں کافی سرپرائز ہوئی جب انہوں نے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک وڈیرے کے پوتے کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ وڈیرے کے پوتے کا ماڈرن پیار کرنے کا خواب

عید پر ریلیز ہونے والی اس فلم ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ میں ہمایوں سعید نے فواد کھگا نامی لڑکے کا کردار ادا کیا جو ایک مضبوط، پیار کرنے والے خاندان کا لاڈلہ بیٹا ہے، اس فلم کا آغاز ایک بہت بڑے جشن سے ہوا جب فواد ڈگری جسے حاصل کرنے میں 10 سال لگے، کو لے کر اپنے کالج سے گھر واپس آئے، اچھی بات یہ پے کہ ان سالوں کا حوالہ دیا گیا کیوں کہ ہمایوں سعید کہیں سے بھی کالج کے نوجوان نظر نہیں آئے۔

بہرحال، فلم پنجاب نہیں جاؤں گی میں مرکزی کرداروں کو نہایت اچھے انداز میں پیش کیا گیا، فلم کے شروع کے 15 منٹ میں ہی ہمیں کھگا (khagga) خاندان کے بارے میں معلوم ہوگیا، جن میں بزرگ بےبو اور ان کی پوتی امل موجود ہے جو کراچی میں رہتی ہے۔ امل کا کردار اداکارہ مہوش حیات نے ادا کیا، انہوں نے بھی اپنی ڈگری مکمل کی، لیکن فواد سے کافی مختلف انداز میں، انہوں نے لندن میں موجود ایک کالج سے یہ ڈگری حاصل کی، ان کے کردار کو ایک مضبوط لڑکی کے طور پر پیش کیا گیا۔

اس فلم میں کئی مزاحیہ سینز بھی پیش کیے گئے جن میں ہمایوں سعید کا ان کے برائے نام وڈیرے دوستوں کے گروپ کے ساتھ بات چیت ہے جس میں ان کے دوست شفیق بھی موجود ہیں جس کا کردار اداکار احمد علی بٹ نے ادا کیا۔ اس فلم میں یہ بھی صاف ظاہر کردیا گیا کہ فواد اور امل کی جوڑی کوئی بہتر انتخاب نہیں، کیوں کہ جہاں امل انگلش بولتی ہے وہیں فواد پنگلش بولتا ہے۔

لیکن جو دل کو اچھا لگتا ہے وہ وہی چاہتا ہے، اس لیے جب فواد نے امل کی تصویر دیکھی تو فیصلہ کرلیا کہ وہ اس سے ہی شادی کرے گا۔ دوسری جانب امل اپنے لندن سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کو پسند کرتی ہے جس سے ان کی اچھی ’مفاہمت‘ ہے۔ اس کے باوجود فواد کراچی جاتا ہے تاکہ وہ امل کو متاثر کرسکے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ کامیاب ہوگا؟

ہمایوں سعید نے وڈیرے پر بات کرنے پر مجبور کردیا

کامیاب ہونے کے لیے فلم ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کو دو جیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، پہلا، ایسی شخصیت کو پیش کرنا جو منفی ہے لیکن پھر بھی شائقین اسے پسند کرسکیں۔ اور دوسرا، فلم میں مزاحیہ پلاٹ کا ہونا کافی ضروری ہے، لیکن کسی ثقافت کا مذاق اڑائے بغیر۔

سپائلر: فلم میں یہ دونوں ہی چیلنجز کامیابی سے پورے کیے گئے۔

اس فلم کی کہانی ’پیارے افضل اور صدقے تمہارے‘ سے مقبولیت حاصل کرنے والے مصنف خلیل الرحمٰن قمر نے تحریر کی، جنہوں نے نہایت بہترین انداز میں اس فلم کا پلاٹ لکھا جہاں جب بھی فواد اپنے آپ کو بہت زیادہ کامیاب سمجھنے لگتا اسی وقت اسے حقیقت کا بھی اندازہ ہوجاتا۔

فلم کے سب سے بہترین سینز وہی رہے جب فواد کو اس کی غلطی کی سزا ملتے دکھایا گیا، جسیے جب وہ امل کو کراچی سے فیصل آباد لے جانے کے لیے زبردستی کرتا رہا تواسے جیل جانا پڑا، تاہم فلم جیسے جیسے آگے بڑھتی رہی فواد کو اندازہ ہوتا گیا کہ اب دنیا ویسی نہیں جیسی ہوا کرتی تھی، اور اب انہیں اس بہادری اور ہمت کے کوئی خاص مارکس نہیں مل سکتے۔

ہمایوں سعید نے فواد کا کردار نہایت بخوبی انداز میں ادا کیا، ایک سین میں بھی انہوں نے مایوس نہیں کیا، ان کی مزاحیہ اداکاری بھی شاندار رہی، اور یہ بھی ثابت کیا کہ ایک اسکرین رائٹر اور اداکار مل کر سوچے تو سینما کیا کچھ دے سکتا ہے۔ اسی طرح فلم ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ اچھی رہی کیوں کہ اس میں کمزور کا نہیں بلکہ طاقتور کا مذاق بنایا گیا۔

وہ تھپڑ جس نے سب خراب کیا

بدقسمتی سے، پنجاب نہیں جاؤں گی کے اسکرپٹ میں چند خامیاں بھی تھیں، ابھی میں فلم ’چین آئے نہ‘ میں ہیروئن کو پڑنے والے تین تھپڑوں کو بھولی بھی نہیں تھی کہ اس فلم میں بھی ایسا ہی ایک سین دیکھنے کو مل گیا۔ میرے خیال سے فواد کی جانب سے کیے گئے اس عمل نے فلم کو خراب کردیا۔ امل خود بھی اس تھپڑ کے بارے میں بہت کچھ کہہ سکتی تھی لیکن اس نے زیادہ کچھ نہیں کہا۔

امل کا کردار مہوش حیات خان کو نیچے لے آیا

جیسے جیسے فلم آگے بڑھی ہمیں یہ سمجھ آتا رہا کہ فواد امل سے کیوں شادی کرنا چاہتا ہے، وہ خوبصورت، کامیاب ہونے کے ساتھ اس کی سمجھداری جو فواد اپنے پیسے سے خرید نہیں سکتے۔

لیکن امل کو فواد کیوں چاہیے؟
اس سوال کا ایسا جواب نہیں دیا گیا، جو قائل کرسکے، اور یہ مہوش حیات کے کردار کے لیے متاثر کن نہیں، کیوں کہ اس کی وجہ سے ان کی بہترین پرفارمنس کمزور پڑ گئی، کبھی ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ امل کو فواد اس کے پیسوں کے لیے چاہیے، کبھی کیسا لگا کہ وہ ان کے پنجابی انداز سے متاثر ہیں، لیکن پھر ہم نے اس بات پر ہی یقین کرلیا کہ یہ پیار ہوگا۔

لیکن کیا یہ مناسب ہوگا کہ ایک سمجھدار خاتون ایک ایسے رشتے کو چھوڑ کر جسے وہ سالوں سے جانتی ہے ایک ایسے رشتے کو قبول کرلے جس کی مونچھ اسے متاثر کرگئی ہو؟ مہوش حیات اور ہمایوں سعید کی آن اسکرین کیمسٹری کافی بہترین ہے، اس لیے شاید امل نے فواد کے انتخاب کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب عروہ حسین نے دردانہ کے روپ میں بہترین اداکاری کی، ویسے تو ان کا فلم میں بہت مختصر کردار رہا، لیکن عروہ نے اس مختصر کردار کو بہترین اداکاری سے منوا لیا۔

آخر فواد کس کی نمائندگی کررہے تھے؟
مجھے پہلے ہی آپ کو آگاہ کردینا چاہیے تھا کہ ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کافی طویل فلم ہے، یہ ٹی وی پر ڈرامے کی صورت میں زیادہ بہتر ہوسکتی تھی، یا اس فلم کا درانیہ 30 منٹ کم ہوسکتا تھا، لیکن اچھی بات یہ تھی کہ ان 30 منٹ میں آپ بریک بھی لے سکتے ہیں۔

ویسے تو یہ ایک رومانوی اور کامیڈی فلم ہے، لیکن میرے لیے فواد کا کردار کافی متاثر کن رہا۔ اس فلم نے ثابت کیا کہ اب فواد جیسے مرد خواتین کو مذاق نہیں بنا سکتے، اور جس دنیا میں ان کے دادا اور والد رہے اب وہ باقی نہیں۔ اس سے ایک بہتر مستقبل کی امید نظر آتی ہے، ایک ایسا مستقبل جو ماضی سے بہتر ہوگا جس میں انصاف ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں