پنجاب نہیں جاؤں گی: پاکستانی اداکاراؤں کے ریڈ کارپٹ پر خوبصورت اور بدصورت انداز

ریلیز کے لیے تیار پاکستانی فلم ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کا پریمیئر 29 اگست کو کراچی کے نیوپلیکس سینما میں ہوا۔ پریمیئر میں فلم کی کاسٹ سمیت دیگر اداکاروں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر فلمی ستاروں اور خصوصی طور پر اداکاراؤں کی ڈریسنگ ناقدین کی نظر میں رہی، اور فوٹوگرافرز نے ریڈ کارپٹ پر جلوے بکھیرتی اداکاراؤں کی اداؤں کو کیمروں میں قید کرلیا۔

پریمیئر کے موقع پر مختلف لباس پہن کر شرکت کرنے والی اداکاراؤں کو ’خوبصورت لباس‘ اور ’بدصورت لباس‘ کی کیٹیگری میں رکھا۔ آپ خود بھی ان اداکاراؤں کی تصاویر کو دیکھ کر ان کے خوبصورت اور بدصورت انداز کا تعین کریں۔

خوبصورت انداز
صنم سعید نے موسم اور ماحول کے حساب سے خوبصورت ڈریس اور رنگوں کا انتخاب کیا، وہ اس ڈریس میں پرکشش دکھائی دیں۔

ماہرہ خان بھی خوبصورت انداز میں ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہوئیں، انہوں نے وائٹ جمپ سوٹ پہنا رکھا تھا، جب کہ انہوں نے خود کو ہینڈ بیگز اور دیگر چیزوں سے بھی آزاد کر رکھا تھا۔ انہوں نے بھی ڈریسنگ کے حوالے سے میک اپ کیا تھا

سائرہ شہروز بھی اپنے شوہر شہروز سبزواری کے ساتھ خوبصورت انداز میں شریک ہوئیں، دونوں نے جینز اور ٹی شرٹ کو ترجیح دی۔

فہد مصطفیٰ بھی جینز کی پینٹ اور سفید ٹی شرٹ اور کوٹ کے ساتھ ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہوئے، انہوں نے پنجاب نہیں جاؤں گی کی ٹیم کے ساتھ تصاویر بھی کھچوائیں۔

بد صورت انداز
معمول کے مطابق اس بار بھی مہوش حیات بدصورت انداز و لباس میں ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہوئیں، انہوں نے اس بار ہرا گاؤن پہن رکھا تھا، اس ڈریس میں وہ زیادہ پرکشش دکھائی نہیں دیں۔

عروا حسین نے بھی مہوش حیات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قدرے بھاری لباس پہن رکھا تھا، وہ سمجھیں کہ شاید وہ فلم کے پریمیئر میں نہیں بلکہ کسی شادی کی تقریب میں جا رہی ہیں، اس وجہ سے انہوں نے گلابی بھاری ڈریس کا انتخاب کیا۔

اداکارہ اشنا شاہ بھی کوئی خاص لباس پہن کر نہیں آئیں، انہوں نے بھی قدرے بے ڈھنگا لباس پہنا، جس کی آستیں بھی موجود تھیں، اور وہ ڈریس سے الگ بھی تھیں، انہیں ایسے لباس کی جانے کیوں ضرورت ہوئی؟

اس فہرست میں مزید اضافہ ماورا حسین کی ساڑھی نے کیا، جو یا تو کسی بچے کے پسندیدہ رنگوں جیسی نظر آئی، یا پھر وہ دادی اماں کے زمانے کی محسوس ہوئی، اور تو اور اوپر سے ان کے چہرے کے تاثرات نے بھی انہیں بدصورت انداز والی فہرست میں ڈال دیا۔