کوک اسٹوڈیو 10: ’لال میری پت‘ کا نیا خوبصورت انداز

کوک اسٹوڈیو سیزن 10 کی تیسری قسط بھی ریلیز کردی گئی، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سیزن ایک بعد ایک گانوں کے ساتھ بہتری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تیسری قسط میں پاکستان کے کئی نامور گلوکاروں نے پرفارم کیا، جن میں قرۃالعین بلوچ، سجاد علی، ساحر علی بگا، ایما بیگ، زو علی، نبیل شوکت، حمیرا چنا، اکبر علی اور اریب اظہر موجود ہیں۔

اس بار چار گانے ریلیز کیے گئے اور سب نے ہی شائقین کو اپنے اپنے انداز میں متاثر کیا۔

لال میری پت (قرۃ العین بلوچ، اکبر علی اور اریب اظہر)

لال میری پت ایک ایسا کلام ہے جو میرے دل سے کافی قریب ہے، میں نے ہمیشہ اس کلام کو جب جب سُنا ایک عجیب سا سکون ملا، اور یہی وجہ ہے کہ کوک اسٹوڈیو کی جانب سے ریلیز کیا گیا یہ ورژن میرے لیے کافی خاص رہا۔ لال میری پت کا کوک اسٹوڈیو کی جانب سے ریلیز کیا گیا یہ انداز یقیناً قابل تعریف ہے، ایک ایسا کلام جو خود اتنا مقبول اور بہترین ہو، اس کو مختلف انداز، مختلف میوزک کے ساتھ ریلیز کرنا آسان کام نہیں۔

قرۃ العین بلوچ کی آواز نے اس گانے کے ساتھ بخوبی انصاف کیا، کلام کے دوران میوزک کبھی ہلکا رہا تو کبھی تیز ہوا، اور یقیناً کوک اسٹوڈیو کے اس گانے کوکافی عرصے یاد رکھا جائے گا۔

قرۃ العین کے علاوہ اکبر علی اور اریب اظہر کی پرفارمنس بھی قابل تعریف رہی، اس کے علاوہ میوزک دینے والے تمام فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی کافی ضروری ہے، جنہوں نے بہترین میوزک کے ساتھ اس گانے کو ایک خوبصورت انداز دیا۔

رونے نہ دیا (سجاد علی، زو علی)

جس طرح پاکستان کے معروف گلوکار سجاد علی اپنی بیٹی کے ہمراہ پرفارم کرنے کے لیے پرجوش تھے، بالکل ویسے ہی میں بھی ان کی بیٹی کی آواز سُننا چاہتی تھی کہ کیا وہ بھی اپنے والد کی طرح اپنی شاندار پرفارمنس کی چھاپ دل پر چھوڑ پائیں گی۔ اور میرے خیال سے زو علی نے کوک اسٹوڈیو میں ایک بہترین آغاز کیا ہے، انہوں نے بیگم اختر کی غزل کو نئے انداز میں پیش کی۔

اس غزل میں انہوں نے انگریزی میں بھی گلوکاری کی، اور یہ ثابت کردیا کہ وہ دو زبانوں کے گانوں کو بخوبی گا سکتی ہیں۔ سجاد علی کی بات کی جائے تو یقیناً ان کو اس سے قبل کئی مرتبہ اس سے زیادہ بہترین پرفارم کرتے ہوئے سُنا گیا، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی پرفارمنس اس گانے میں کمزور رہی۔

یہ گانا کوک اسٹوڈیو کی تیسری قسط کا سب سے بہترین گانا تو نہیں، لیکن ایک بہتر پیشکش کے طور پر سامنے آیا ہے۔

مجھ سے پہلی سی محبت (نبیل شوکت، حمیرا چنا)

یہ گانا میڈم نور جہاں کے گائے ہوئے بہترین گانوں میں سے ایک تھا جس کی شاعری فیض احمد فیض نے تحریر کی، اس گانے کے ساتھ کوک اسٹوڈیو نے نور جہاں کو ٹریبیوٹ پیش کیا، اور اگر کوئی سکون سے اس گانے کو مکمل طور پر سُنے تو اندازہ ہوجائے گا کہ اسے بخوبی ادا کرنا کوئی مذاق نہیں۔

اس گانے کو حمیرا چنا اور نبیل شوکت نے گایا، لیکن ان کی گلوکاری اور ساتھ میں دیا میوزک اس خوبصورت گانے کے ساتھ انصاف نہیں کرپایا، گانے کے درمیان کئی بار میوزک اتنا تیز ہوگیا کہ گلوکاروں کی آواز ہی دب گئی، اور ایک ایسا گانا جو کسی خوبصورت کہانی سے کم نہیں شور میں تبدیل ہوگیا۔

ان دونوں گلوکاروں کی آواز کافی بہترین ہے، لیکن نور جہاں کے گانے کو اس ہی انداز میں پیش کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

بازی (ایما بیگ، ساحر علی بگا)

سوشل میڈیا پر ایک نظر دوڑائی تو ایسا محسوس ہوا کہ ایما بیگ کوک اسٹوڈیو کی نئی مومنہ مستحسن بن چکی ہیں، لیکن میرے خیال سے ایما بیگ اور مومنہ مستحسن کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں، کیوں کہ ان دونوں گلوکاراؤں کی آواز اپنی اپنی جگہ کافی الگ اور خوبصورت ہے۔

کوک اسٹوڈیو کی تیسری قسط کے اس گانے کو ایما بیگ اور ساحر علی بگا نے ایک ساتھ مل کر گایا، یہ اس قسط کی کافی منفرد پیشکش تھی، دونوں گلوکاروں نے کمال گائیکی کی، میوزک بھی بہتر رہی، لیکن اس کے باوجود اس گانے کو اس قسط کا سب سے شاندار گانا نہیں کہوں گی، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گانے نے مجھے اتنا متاثر نہیں کیا۔

لیکن یہ ایک سرائیکی گانا تھا جس کے لیے دونوں گلوکاروں کا انتخاب قابل تعریف ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کوک اسٹوڈیو سیزن 10 کی تیسری قسط ایک بہتر موسیقی اور گلوکاری کی مثال ہے۔