موبائل کارڈ میں ٹیکس کٹوتی ۔۔۔ سپریم کورٹ نے اچانک اپنا بڑا حکم سنا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے موبائل کارڈ ٹیکس کٹوتی کیس میں حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایسا مکینزم بنائیں کہ انکم ٹیکس نہ دینے والوں کو سرٹیفکیٹ نہ لینا پڑے، حکومت مسئلے کا حل نکالے۔سپریم کورٹ میں موبائل کارڈ ٹیکس کٹوتی کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ قانون میں یہ

سمجھ لیا گیا ہے کہ ہر شہری ٹیکس دینے کے قابل ہے، حکومت اس مسئلے کا کوئی حل نکالے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میکنزم ایسا بنائیں کہ انکم ٹیکس نہ دینے والوں کو سرٹیفیکٹ نہ لینا پڑے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ موبائل کارڈ پر ہر صارف کو ایڈوانس ٹیکس دینا ہوتا ہے، جس صارف پر انکم ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا وہ ریفنڈ لے سکتا ہے۔اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا ریڑھے پر بیٹھا شخص ریفنڈ کے لئے انکم ٹیکس کمشنر کے پاس جائے؟، ریڑھے والوں کی بھی بڑی آمدن ہوتی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ریاست کو اپنے شہریوں کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں جو ریفنڈ مانگ لے، اس کو دے دیں، جو ریفنڈ نہ مانگے کیا وہ جیب میں ڈال لیں؟ ریاست کو ہر شہری کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ ریاست کو لوگوں کی جیبوں سے اس طرح سے پیسہ نہیں نکالنا چاہیے۔چیف جسٹس کا کیس کی سماعت کے دوران کہنا تھا کہ کتنے لوگ ہیں جو ایڈوانس ٹیکس کا ریفنڈ مانگتے ہیں۔ لگتا ہے ریاست نے ہر شہری کو قابل ٹیکس سمجھ لیا ہے۔ ریاست سمجھتی ہے کہ شہری خود نشاندہی کریگا کہ وہ ٹیکس پیئر ہے کہ نہیں؟ موبائل فون کارڈ ٹیکس کٹوتی کیس کی سماعت

بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے موبائل کارڈ ٹیکس کٹوتی کیس میں حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایسا مکینزم بنائیں کہ انکم ٹیکس نہ دینے والوں کو سرٹیفکیٹ نہ لینا پڑے