حکومت نے موبائل فونز کی درآمد پر 44 سے 52 فیصد ڈیوٹی عائد کر دی

اسلام آباد (نیوزڈیسک) حکومت نے موبائل فونز کی درآمد پر 44 سے 52 فیصد ڈیوٹی عائد کر دی۔ڈیوٹی میں اضافے سے سمارٹ فونز 20ہزار روپے تک مہنگے ہو جائیں گے۔20 ہزار روپے والا سمارٹ فون 11ہزار مہنگا ہو کر 31 ہزار روپے کا ہو گیا۔گذشتہ ماہ وزارت خزانہ کی جانب سے امپورٹڈ موبائل فونز پر عائد کیے گئے ٹیکسز کی شرح کی تفصیلات جاری کی گئی تھیں۔ بتایا گیا تھا کہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والی افراد اپنے ساتھ ایک سال کے دوران 5 موبائل فونز پاکستان لا سکتے ہیں۔ تاہم صرف ایک غیر استعمال شدہ موبائل فون کو چھوڑ کر باقی موبائل فونز پر ٹیکسس ادا کرنا ہوں گے۔ تاہم جس موبائل فون پر ٹیکس عائد نہیں ہوگا،

اسے بھی 30 روز کے اندر اندر پی ٹی اے کی جانب سے وضح کردہ طریقہ کار کے تحت رجسٹر کروانا ہوگا۔ جبکہ اس غیر استعمال شدید موبائل فون کے علاوہ شہری کے پاس اگر کوئی ایسا موبائل فون بھی ہوا جو غیر ملکی سم پر چل رہا ہے، تو اس پر بھی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ ٹیکس صرف بنا سم والے استعمال شدہ موبائل فونز یا نئے موبائل فونز پر عائد ہوگا۔ بیرون ممالک سے لائے جانے والے یا منگوائے

جانے والےموبائل فونز پر کل 7 طرح کے ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔ بیرون ممالک سے لائے یا منگوائے جانے والے موبائل فونز پر کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ایڈیشنل سیلز ٹیکس، آئی ٹی ڈیوٹی، موبائل لیوی اور صوبائی ٹیکس نامی ٹیکسز عائد کیے جائیں گے۔ سیلز ٹیکس کی شرح 15 سو روپے، کسٹم ڈیوٹی 250 روپے، سیلز ٹیکس موبائل فون کی قیمت کا 3 فیصد، آئی ٹی ٹیکس 9 فیصد جبکہ پنجاب میں 0.9 فیصد صوبائی ٹیکس عائد ہوگا۔ ٹیکس کا نفاذ 50 ڈالرز یعنی 7 ہزار روپے یا اس سے زائد مالیت کے موبائل فونز پر ہوگا۔ کم سے کم ٹیکس 50 ڈالرز والے موبائل فون پر عائد ہوگا جو 4641 روپے بنتا ہے۔ جبکہ سب سے زیادہ ٹیکس 15 سو ڈالرز والے موبائل فونز پر عائد ہوگا جو کہ 83 ہزار 420 روپے بنتا ہے۔