حکومت نے پہلے پاکستانی خلاباز کو خلاء میں بھیجنے کی منظوری دے دی

وفاقی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خلائی پروگرام کے تحت پہلا پاکستانی آئندہ 4 سالوں کے اندر خلاء میں بھیجا جائے گا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت نے پہلے پاکستانی خلاباز کو خلاء میں بھیجنے کی منظوری دے دی ۔ فواد چوہدری نے بتایا کہ پہلا پاکستانی شخص فضائی تحقیقات سے متعلق کام کرنے والے چینی ادارے ‘چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی‘ (سی ایم ایس اے) کے تعاون سے خلاء میں جائے گا ۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ا حوالے سے ‘سی ایم ایس اے‘ اور فضائی تحقیقات سے متعلق کام کرنے والے پاکستانی ادارے ‘سپارکو‘ کے درمیان معاہدہ بھی ہوچکا ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس کام کو پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکنالوجی اور اسپیس پروگرام کے نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے دیگر فیصلوں سے متعلق بھی آگاہ کیا ۔ خیال رہے کہ پاکستان نے رواں برس جولائی میں مقامی سطح پر تیار کیے گئے 2 سیٹلائٹس کو بھی پہلی بار خلاء میں بھیجا تھا ۔

جولائی میں پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (پی آر ایس ایس) ون اور پاکستان ٹیکنالوجی ایوالیوشن سیٹلائٹ (پاک ٹیس ون اے) نامی سیٹلائٹس کو خلاء میں بھیجا گیا تھا ۔ ان سیٹلائٹس سے پاکستان کو زمین کی نقشہ سازی ، زراعت کی درجہ بندی اور تشخیص سمیت شہری اور دیہی منصوبہ بندی، ماحولیاتی نگرانی، قدرتی آفات کے انتظام سنبھالنے ، ملک کی سماجی – اقتصادی ترقی کو بہتر بنانے اور پانی کے وسائل کے انتظام سے متعلق مدد ملے گی ۔ پاکستان نے اپنا پہلا خلاباز ایک ایسے وقت میں خلاء میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے ، جب کہ بھارت بھی اپنا پہلا خلابار بھیجنا کا ارادہ رکھتا ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ بھارت بھی 2022 تک پہلا شخص خلا میں بھیجے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں