گوگل نئے منصوبے شروع کرنے والے پاکستانیوں کو مدد دیگا

انٹرنیٹ گرو کمپنی گوگل نے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ترقی پذیر ممالک کے نوجوانوں کے لیے نئے منصوبے کا آغاز کردیا۔ ’لائونچ پیڈ ایکسیلیٹر‘ نامی اس منصوبے میں گوگل ان افراد یا نوجوانوں کو مفت تربیت دینے سمیت مالی مدد فراہم کرے گا، جو انٹرنیٹ پرنئے منصوبے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت پاکستان سمیت ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا و یورپ کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے ان افراد کو گوگل کے ہیڈ کوارٹر میں تربیت فراہم کی جائے گی، جنہوں نے کسی بھی طرح کی سماجی اور معاشرے کی بھلائی سے متعلق کوئی ویب سائٹ بنائی ہوگی، یا پھر انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کا کوئی منصوبہ شروع کیا ہوگا۔ گوگل کے بیان کے مطابق پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اس منصوبے کا آغاز 31 اگست 2017 کو ہوچکا، جس کے بعد کوئی بھی ویب سائٹ یا نیا منصوبہ شروع کرنے والے افراد اپنے منصوبے کی بنیاد پر آن لائن اپلائی کرسکتے ہیں۔

نئی ویب سائٹ یا منصوبہ شروع کرنے والے افراد کو شارٹ لسٹ کیے جانے کے بعد انہیں سان فرانسسکو میں موجود گوگل ہیڈ کوارٹرز میں تکنیکی تربیت فراہم کی جائے گی۔ نئے ڈویلپرز کو ماہر انجنیئرز اور مایہ ناز انٹرنیٹ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) تربیت فراہم کریں گے، جب کہ تربیت لینے والے افراد کے تمام اخراجات بشمول رہائش اور سفری سہولیات گوگل ہی برداشت کرے گا۔

گوگل نے یہ نیا منصوبہ پاکستان سمیت ایشیا کے دیگر ممالک بنگلا دیش، سری لنکا اور میانمار میں بھی شروع کیا ہے، جب کہ افریقی ممالک میں الجیریا، مصر، گھانا، مراکش، تنزانیہ، تیونس اور یوگنڈا شامل ہیں۔ اس منصوبے کے لیے لاطینی امریکا کے کوسٹا ریکا، پاناما، پیرو اور یوراگوئے، جب کہ وسط مشرقی یورپی ممالک ایسٹونیہ، رومانیہ، یوکرین، بیلاروس اور روس کے افراد بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

اس منصوبے کے لیے اپلائی کرنے والے نئے ڈویلپرز کے لیے لازمی ہوگا کہ ان کی جانب سے شروع کی گئی ویب سائٹ یا دیگرانٹرنیٹ منصوبہ ’لازمی طور پر تکنیکی ہو‘، ’منصوبہ مقامی مارکیٹ کو ٹارگیٹ کرتا ہو‘، ’اس کی جانب سے پیش کردہ مصنوعات یا آئیڈیا عوام میں مقبول ہو‘ اور منصوبہ لازمی طور پر ان ہی ممالک میں شروع کیا گیا ہو، جہاں کے لیے گوگل نے اسکالر شپ کا اعلان کیا ہے۔

خواہش رکھنے والے افراد یا نئے ادارے آئندہ ماہ 2 اکتوبر تک اپنے منصوبے کی بنیاد پر یہ اسکالر شپ حاصل کرنے کے لیے آن لائن اپلائی کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ منصوبہ بھارت سمیت دیگر کئی ممالک میں پہلی ہے شروع کیا جاچکا ہے۔