نیب کا دوران انکوائری ملزم کا اکاؤنٹ منجمد کرنا خلاف قانون قرار

اسلام آباد(اردو نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کے دوران انکوائری ملزم کا اکاؤنٹ منجمد کرنا خلاف قانون قرار دے دیا، انکوائری پر دفعہ 23 کے تحت ملزم کا بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا خلاف قانون ہے، اثاثے منجمد کرنے ہوں تو دفعہ 12 کے تحت آرڈر کرے، تحقیقاتی ایجنسی کی تاخیر پر شہری کو اکاؤنٹ سے رقم نکالنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدرسندھ بینک بلال شیخ کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے اپنے فیصلے میں بلاول شیخ کوبینک اکاؤنٹ استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب انکوائریوں کے دوران ملزمان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے پر بڑا فیصلہ دیا کہ نیب کی جانب سے انکوائری کرنے پر دفعہ 23کے تحت ملزم کا بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا خلاف قانون ہے، نیب نے انکوائری پر اثاثے منجمد کرنے ہوں تو دفعہ 12کے تحت آرڈر کرے،قانون کے مطابق نیب کو چاہیے کہ انکوائری اور تحقیقات کا عمل جلد مکمل کرے۔

سالوں تک محض الزام پر ملزم کے اکاؤنٹس کو منجمد رکھنابنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔تفتیشی ایجنسی کی تاخیر کے باعث شہری کو اکاؤنٹ سے رقم نکالنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ گناہ گار کو سزا دینا ریاست کا کام ہے، لیکن شہری کو اپنی رقم استعمال کرنے کا حق دینا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس سے قبل 29 ستمبر2020ء کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق پرمشتمل ڈویژن بنچ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر سندھ بینک بلال شیخ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، اس موقع پر سپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بلال شیخ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی مخالفت کی جس پر عدالت نے کہاکہ اس سے پہلے بھی عدالت ایک اور کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری دے چکی ہے۔

درخواست گزاروکیل مرزا محمود نے کہا کہ بلال شیخ نیب تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہے ہیں،سمجھ نہیں آتا نیب ہر وقت سر پر تلوار کیوں لٹکائے رکھنا چاہتا ہے،بلال شیخ کی عمر زیادہ ہے،نیب کو گرفتاری سے روکا جائے،عدالت اپنے فیصلوں میں نیب کی کارکردگی پر سوالات اٹھا چکی ہے۔ مزید برآں اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا معاملہ حل کریں۔

قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے 3 صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں کہا گیا کہ ٹیکنالوجی کی شعبے میں ترقی کے بعد انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی آئینی حقوق میں شامل ہے، قبائلی علاقوں کے لوگوں نے بہت کچھ سہہ لیا، دہائیوں تک انہیں نظر انداز کیا گیا ، اب قبائلی علاقوں کی نوجوانوں کو آئینی حقوق سے مزید محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر معاملہ حل کریں،

فیصلے کی کاپی سیکرٹری داخلہ وفاقی کابینہ کو پیش کریں، امید ہے کابینہ ضروری اقدامات لے گی، قبائلی علاقوں کے عوام کو بنیادی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، امن و امان کی خراب صورتحال اور سیکیورٹی کے نام پر قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ بند رکھا گیا، عوام اور مسلح افواج کی قربانیوں سے اب امن و امان بحال ہو چکا، قبائلی علاقوں میں ریاست کی رِٹ بحال ہوئی، فاٹا اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہے۔