مسلم لیگ (ن) کا حکومت کیخلاف مارچ میں لانگ مارچ کرنے کا اشارہ

اسلام آباد (اردونیوز) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے حکومت کیخلاف مارچ میں لانگ مارچ کرنے کا اشارہ دے دیا، انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کیلئے مارچ کا مہینہ بہت چھا ہے،، حکومت کیخلاف فیصلہ کن لانگ مارچ کیا جائے گا،عمران خان کو جواب دینا ہوگا، پانامہ کی طرح براڈشیٹ بھی فراڈ ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پانامہ بھی فراڈ تھا، براڈشیٹ بھی فراڈ ہے، حکومت کیخلاف فیصلہ کن لانگ مارچ کیا جائے گا،لانگ مارچ کیلئے مارچ کا مہینہ بہت چھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیپلزپارٹی کی پرانی تجویز ہے، اگر بلاول بھٹو کے پاس تحریک عدم اعتماد کے نمبرز ہیں تو بتائیں۔ سینیٹ میں نمبرز ہونے کے باوجود ہماری تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔احسن اقبال نے کہا کہ قوم والیم ٹین نہیں پڑھنا چاہتی قوم جاننا چاہتی ہے کہ مہنگائی کیسے ہوئی، آٹا چینی دالیں کیسی مہنگی ہوئیں؟قوم جاننا چاہتی ہے کہ بجلی گیس کے بلوں میں اضافے کے بعد بھی بجلی اور گیس کیوں نہیں مل رہی؟حکومت ان چیزوں سے توجہ ہٹانے کیلئے بارڈ شیٹ براڈشیٹ کررہی ہے۔

عمران خان کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آپ این آراو اور براڈشیٹ کے پیچھے نہیں چھپ سکتے۔ اسی طرح پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے لانگ مارچ سے قبل تحریک عدم اعتماد کے آپشن پر غور شروع کردیا ہے، پیپلزپارٹی کے بعد مسلم لیگ ن نے بھی ان ہاؤس تبدیلی لانے کا اشارہ دے دیا، مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومتی اتحادیوں سے مل کر جلد تحریک عدم اعتماد لائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن میں یہ خود اعتراف کر چکے ہیں اور اعتراف جرم کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے پاس کارروائی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے، اس نے اعتراف کیا کہ فارن فنڈنگ میں نے نہیں میرے ایجنٹس نے کی ہے، جبکہ کمپنیاں ان کے دستخط سے رجسٹرڈ ہیں۔ براڈ شیٹ کا مالک بھی بہت بڑا چور ہے، یہ براڈشیٹ کے مالک سے ملے ہوئے تھے اور اس سے ملکر چوری کی، شہزاد اکبر نے کمیشن کمایا۔

انہوں نے کہا کہ تین سال سے چور کا شور مچانے والا چور پکڑا جاچکا ہے، اسرائیلی اور انڈین لابی کی فرموں سے انہوں نے پیسہ لیا اور فارن فنڈنگ کا پیسہ ملک کے خلاف استعمال کیا گیا جب کہ الیکشن کمیشن میں اس نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے کیس میں جس ویڈیو کا بیان وفاقی وزیر اور ڈی جی دیتے رہے وہ آج تک عدالت کو فراہم نہیں کر سکے۔