لاہور جلسہ کی ناکامی پر نوازشریف سخت برہم

لاہور(اردو نیوز) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کا جلسہ حکومت کو کس حد پریشان کرپایا ہے اور لانگ مارچ کس حد تک اپنے مقاصد میں کامیاب رہے گا ملک کے ذرائع ابلاغ میں اس بحث جاری ہے لاہور کے جلسے کے حوالے سے بات کی جائے تو میزبان جماعت مسلم لیگ نون کو اس سے شدید دھچکا لگا ہے .

مسلم لیگ نون کا خیال تھا کہ ڈیڑھ کروڑکی آبادی والے شہر میں سے وہ پچاس ‘ساٹھ ہزار لوگوں کو نکالنے میں کامیاب رہے گی دوسری وجہ کئی دہائیوں سے لاہور کو نون کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے اور2018 کے عام انتخابات میں لاہور کی قومی اسمبلی کی14میں سے 11نشستوں پر جبکہ پنجاب اسمبلی کی 30نشستوں میں سے 21نشستوں پر نون لیگ کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے 13دسمبر کے جلسے کی کامیابی کے لیے جہاں سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازخود متحرک رہیں بلکہ نون لیگ کی مرکزی قیادت نے بھی کئی ہفتوں سے لاہور میں ڈیرے جمارکھے تھے.

لاہور کی تمام یونین کونسلوں میں اجتماعات ‘کارنرمیٹنگز اور جلسوں کا اہتمام کیا گیا گھر گھر جاکر دعوت دینے کی مہم چلائی گئی مگر اس کے باوجود جلسے کے شرکاءکی مایوس کن تعداد سے نون لیگی قیادت خود پریشان ہے سابق وزیراعظم نوازشریف نے لاہور جلسے کا مایوس کن کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے جلسے کے بعد رات گئے ہونے والے ایک اجلاس میں انہوں نے ویڈیولنک کے ذریعے ا شرکت کی اورپنی جماعت کے لاہور سے منتخب قومی وصوبائی اسمبلی کے اراکین پر خوب گرجے برسے ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگ دس ‘دس ہزار بندے نکال لاتے تو جلسے کے شرکاءکی تعداد لاکھوں میں چلی جاتی مگر آپ نے انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے.

میاں ندیم نے بتایا کہ نون لیگ نے یونین کونسل چیئرمینوں کے لیے بھی ایک ایک ہزار بندے لانے کا ٹارگٹ دے رکھا تھا لاہور میں 274یونین کونسل ہیں اسی طرح سینکڑوں ٹکٹ ہولڈرزہیں جن کے اجلاس پچھلا پورا مہینہ ہوتے رہے ہیں اور صرف لاہور ہی نہیں نون لیگ نے پورے پنجاب میں اس جلسہ کو کامیاب کروانے کے لیے پورا زورلگایا لیکن اس کے باوجود عملی طور پر کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی .

انہوں نے کہا کہ ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو کوئی راہنما لانگ مارچ کر کے یا دھرنا دے کر حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے لیکن حالات کو خراب کرنے، حکومتی رٹ کمزور کرنے اور اپوزیشن کے مطالبات میں جان ڈالنے میں ان تحریکوں کا کردار رہا ہے ان مارچوں کے نتیجہ میں فوری طور پر نہ سہی لیکن کچھ عرصے کے لیے ملکی سیاست کا رخ بدلا ہے مگر جوکارکردگی اب تک پی ڈی ایم کی رہی ہے اس سے نہیں لگتا کہ پاکستان میں سیاست کا رخ بدلنے جارہا ہے.
انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں صرف ایک ہی لانگ مارچ ایسا تھا جس کے ایک ماہ کے اندر حکومت کو گھر جانا پڑا تھا یہ مارچ1996میں جماعت اسلامی کا قاضی حسین احمد کی قیادت میں ملک کی سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کرنے والے اس لانگ مارچ میں حکومت نے طاقت کا بھرپور استعمال کیا مگر اس کے باوجود بے نظیر حکومت کو پیپلزپارٹی کے ہی صدر فاروق لغاری نے ایک ماہ کے بعد برطرف کردیا تھا .

غیرجانبدار مبصرین کہہ رہے ہیں کہ گیارہ جماعتوں پر مشتمل اس اتحاد کا گزشتہ روزہونے جلسہ کوئی خاص ثاتر قائم نہیں کرسکا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ نون کو ہوا ہے کیونکہ لاہور میں وہ میزبان جماعت تھی اور عمومی طور پر لاہور کو نون لیگ کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے تاہم جلسے کے بارے میں سامنے آنی رپورٹس کے مطابق جلسہ میں لاہور کے شہریوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لہذا اس جلسے کی ناکامی پی ڈی ایم نہیں بلکہ نون لیگ کی ناکامی تصور کی جارہی ہے.

اب تک جلسہ کے شرکاءکی تعداد کے حوالے سے اندازے لگائے جارہے ہیں لاہور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ میں 4 سے 5 ہزار افراد موجود تھے جبکہ اسپیشل برانچ نے شرکاءکی تعداد ساڑھے 3 ہزار سے 4 ہزار رپورٹ کی ہے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شرکاءکی تعداد تقریباََ 6 سے 8 ہزار ‘سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کا دعوی ہے کہ جلسے میں ایک لاکھ سے زائد لوگ تھے مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی اورجمعیت علمائے اسلام (ف) کے راہنما مفتی کفایت اللہ نے دعویٰ کیا کہ جلسے میں دس لاکھ سے زائد لوگ شریک تھے.

حکومت کا کہنا ہے کہ جلسے میں صرف دس سے پندرہ ہزار لوگ شریک ہوئے جبکہ پی ڈی ایم بند کمروں میں جلسے کی ناکامی پر پریشان ہے مگر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پرحقائق کے برعکس اسے پی ڈی ایم کے اب تک ہونے جلسوں میں سے سب سے بڑا اور کامیاب جلسہ قرار دے رہی ہے.