نوازشریف کو واپس لانے کے ذمہ دار اب شہبازشریف ہیں، شہزاد اکبر

اسلام آباد (اردونیوز) معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نوازشریف کو واپس لانے کے ذمہ دار شہبازشریف ہیں، شہباز شریف نے نوازشریف کی ضمانت دی تھی، نوازشریف سزا یافتہ مجرم اور مفرور ہیں، تصاویر میں ان کی صحت بڑی اچھی ہے، اس لیے باقی کی سزا جیل میں کاٹیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے نوازشریف کو علاج کروانے کی 4ہفتوں کیلئے اجازت دی، اس دوران میڈیکل رپورٹس اور علاج معالجے کی صورتحال سے بھی عدالت اور حکومت کو آگاہ کیا جائے گا۔

20 اکتوبر 2019ء کو لاہور ہائیکورٹ سے 8ہفتوں کی ضمانت ہوئی۔ 16نومبر کو نوازشریف کا ای سی ایل سے نام نکالنے کا فیصلہ آیا۔ 23 دسمبر کو جب ان کی چار اور 8ہفتوں کی دی ہوئی مہلت ختم ہوگئی۔ تو نوازشریف نے کونسل کے ذریعے پنجاب حکومت کو درخواست دی اور ضمانت میں توسیع مانگی۔ جس پر پنجاب حکومت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا اور ان کے علاج معالجے کی تفصیل مانگی۔

میڈیکل بورڈ نے نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کو ناکافی قرار دیا۔ میڈیکل بورڈ نے مزید توسیع دینے سے انکار کردیا۔ پھر 19 تا 21 فروری 2020ء کو مسلسل تین سماعت ہوئیں، ان کے وکیل اور ذاتی معالج بھی آئے۔جس میں رپورٹس پیش کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پھر27 فروری کو ہوم ڈیپارٹمنٹ نے حکم جاری کیا کہ آپ کا کیس مسترد کیا جاتا ہے، آپ سزا یافتہ ملزم ہیں، خود کوفوری جیل حکام کے حوالے کریں۔

لیکن انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کہا کہ ہمیں فیصلے کی کاپی نہیں ملی۔نوازشریف سزا یافتہ مجرم ہیں، ان کا اسٹیٹس مفرور جیسا ہیں۔نوازشریف کو دو کیسز میں سزا ہوچکی ہے، لیکن وہ لندن کی سڑکوں پر چہل قدمی کررہا ہے۔ ان کو واپس لانے کیلئے قانونی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔، شہبازشریف نے نوازشریف کی ضمانت دی تھی، اب شہبازشریف کی زمہ داری ہے وہ نوازشریف کو واپس لائیں، بڑے ضمانتی بنے پھرتے تھے۔

نوازشریف کی جوتصاویر سامنے آرہی ہیں، اس میں بڑی اچھی صحت ہے، باقی کی سز اوہ ہنستے کھیلتے کاٹ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوسری بات این آر او پلس پلس کی بات ہے، پاکستان گرے لسٹ میں ہے، جب ہم حکومت میں آئے تو پاکستان بلیک لسٹ میں جانے کے قریب تھے۔ہماری حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے ایشو کو حل کیا۔