خدشات درست ثابت ہوئے، 2 دن کی بارش کے بعد ملک کے بیشتر دریاﺅں میں خطرناک صورتحال، سیلاب آگیا

اسلام آباد (اُردو نیوز) ملک بھر میں بارشوں کے بعد دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہوگئی جس کے باعث کئی مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے اور کئی مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے، فلڈ کنٹرول روم کے مطابق دریائے سندھ میں راجن پور کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جس کے باعث جو فصلیں دریائی راستوں میں کاشت تھی وہ زیر آب آگئی ہیں جب کہ دریائے سندھ کے راستوں میں آباد لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے، دریا کی حدود میں کچے کے علاقوں میں متوقع سیلاب کے پیش نظر لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے لیے اعلانات بھی کرائے جا رہے ہیں۔

فلڈ کنٹرول روم کے مطابق دریائے سندھ میں کوٹ مٹھن کے مقام پر 2 لاکھ 80 ہزار کیوسک پانی گزرہا ہے جبکہ دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے پر ہائی فلڈ الرٹ جاری ہے، اس کے علاوہ ژوب، قلات اور ڈی جی خان ڈویژن میں دریاؤں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کے باعث دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے راوی اور دریائے چناب سے ملحقہ ندی نالوں میں سیلابی صورتحال ہوگی، ڈی جی خان کے پہاڑی ندی نالوں میں بھی نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب ہوگا۔

محکمہ موسمیات نے اتوار سے سندھ اور بلوچستان کے وسطی و شمالی اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیش گوئی کردی۔محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار سے منگل تک میرپور، ٹھٹھہ، حیدرآباد، کراچی اور بینظیر آباد میں تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔اس دوران سکھر،لاڑکانہ، ژوب، سبی اور نصیر آباد کے چند مقامات پر بھی تیز آندھی اور بارش ہوسکتی ہے جبکہ بلوچستان میں قلات، مکران ڈویژن میں بھی تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ تیز بارشیں ہوں گی جس کے نتیجے میں کراچی، ٹھٹھہ، حیدر آباد ڈویژن میں اربن فلڈنگ جبکہ قلات، سبی، ژوب ڈویژن میں فلش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔