زرتاج گل کی بہن جنہیں نیکٹا کا ڈائریکٹر بنایا گیا ہو کو پنجاب یونیورسٹی ملازمت کے لیے نا اہل قرار دے چکی ہے

اسلام آباد (اردو نیوز) وفاقی وزیرموسمیات زرتاج گل کی بہن شبنم گل جو کہ لاہور کالج فار ومن یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر تھیں انہیں نیکٹا میں انیسویں گریڈ کی ڈائریکٹر کی پوسٹ پر تعینایت کر دیا گیا ہے۔ نیکٹا نے اس حوالے سے کہا ہے کہ شبنم گل کی تقرری بطورڈائریکٹرخالصتاً میرٹ پرہوئی، ترجمان نیکٹا نے کہا کہ شبنم گل پی ایچ ڈی سکالرہیں اور انسداد دہشتگردی پر کئی مقالے لکھے، 3 رکنی کمیٹی نے انٹرویو کیا جس کے بعد وہ منتخب ہوئیں تاہم اب خبر موصول ہوئی ہے کہ زرتاج گل کی بہن جنہیں نیکٹا کا ڈائریکٹر بنایا گیا ہو کو پنجاب یونیورسٹی ملازمت کے لیے نا اہل قرار دے چکی ہے۔

معروف صحافی ٹویٹ میں کہا کہ نیکٹا اور وزیر زرتاج گل کو بہت سی چیزیں بتانے کی ضرورت ہے ، شبنم گل جو کہ زرتاج گل کی بہن ہے انہیں پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے سرقہ باز (کسی کے خیالات یا تحریری کام کو چوری کر کے اپنے نام سے شائع کرنا) پرنوکری سے نا اہل قرار دیدیا گیا تھا جبکہ شبنم گل کا دہشتگردی پر کوئی پیپر بھی شائع نہیں ہوا تھا۔

“ فائزہ داؤدنے ایک قومی اخبار ڈان نیوز کے 13 فروری 2007کو شائع کی گئ ایک خبر کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نے اپنے دو محققین کو مستقبل میں پڑھانے کی نوکری کیلئے نا اہل قرار دے دیا ہے جبکہ ان میں سے ایک تحقیق کا ر کی سرقہ بازی کے الزامات کے تحت ایم فل کا وظیفہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اخبار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان دونوں تحقیق کاروں میں شبنم گل اور اندلیب صابرا شامل ہیں جن کا تعلق یورنیورسٹی اورینٹل کالج کے ڈپارٹمنٹ کشمیر سٹڈیز سے ہے ، انہوں نے مبینہ طورپر ایم اے کشمیریات کے تھیسسز میں سرقہ بازی سے کام لیا ہے۔اس کبر کے بععد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جس خاتون کو ایک ادارہ نوکری کے لیے نااہل قرار دے چکا ہے اس کو اتنے حساس ادارے میں اتنی بڑی کرسی کیسے دی جا سکتی ہے اور وہ بھی تب جب اس کی اس کرسی کے لیے قابلیت بھی جعلی ہونے کا اندیشہ ہو۔