پاک عرب ہاؤسنگ سکیم لاھور میگا کرپشن سکینڈل

لاھور (اردو نیوز) متاثرین پاک عرب ہاؤسنگ سکیم تقریباً ایک سال سے اپنی فریاد لیے لاھور نیب کے دفتر چکر لگا رہیے ہیں مگر تا حال نہ ان کی کوئی سنوائی ھوئ ھے اور نہ ہی ان کی داد رسی کےلئے کوئی خاطر خواہ انتظام کیا گیا ھے۔ ایک معاہدے کے تحت عمار احمد خان (مالک پاک عرب ھاوسنگ سکیم) کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا کہ وہ چھ ماہ کے اندر تمام متاثرین کے مسائل کو حل کرے گا۔ ضمانت کا دورانیہ 30 مئی کو ختم ھو رھا ھے مگر مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ مسائل کی تفصیل کچھ اس طرح ھے:-

پاک عرب ھاوسنگ سکیم میں سب سے بڑا مسئلہ ترقیاتی کاموں کا نہ کیا جانا ھے۔ تقریباً پانچ ہزار لوگ اس مسئلہ کا شکار ہیں۔ جنہیں بہت بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود اپنے گھر کا خواب پورا ھوتا ھوا نظر نہیں آ رہا۔ جبکہ مالکان ترقیاتی کاموں کے واجبات عرصہ دراز پہلے وصول کر چکے ھیں۔

دوسرا بڑا مسئلہ زمین کی عدم موجودگی کے باوجود دو بڑے بلاکس(ایف 3 اور اوورسیز بلاک) کا بیچا جانا ھے۔ تقریباً اڑھائی ھزار سے زائد لوگ اس مسئلہ کا شکار ھیں۔ مالکان اس مد میں متاثرین سے ایک بہت بڑی رقم ہتھیا چکے ہیں۔ عدالت کے ساتھ معاہدے کے باوجود ان متاثرین کو رقم واپس نہیں کی جا رہی۔

بہت سارے پلاٹس ایک سے زائد مالکان کو فروخت کۓ گۓ ہیں۔ یہ مسئلہ بھی ابھی تک جوں کا توں موجود ھے اور کوئی سنوائی نہیں ھو رھی۔
اس کے علاوہ بہت سارے لوگ میپ تبدیل ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ یعنی ایک پلاٹ اچھی لوکیشن کی وجہ سے مہنگے داموں خریدا گیا۔ بعد میں میپ تبدیل ہونے کی وجہ سے یہ پلاٹ باؤنڈری پر چلا گیا جہاں اس کی مالیت آدھی سے بھی کم رہ گئی۔ ایسے متاثرین کو سنا ھی نہیں جا رہا۔ اس کے علاوہ بہت سارے لوگ متفرق مسائل کا شکار ہیں جن کو حل نہیں کیا جا رھا۔

ان مسائل کی وجہ سے لوگ انتہائی ذھنی اذیت کا شکار ہیں۔ حال ہی میں ایک متاثرہ شخص اسی ذھنی اذیت کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ان حالات میں متاثرین کہاں جائیں۔ کس کا دروازہ کھٹکھائیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ یہ متاثرین نیب سے مودبانہ گزارش کرتے ہیں کہ ان کی ترجیحی بنیادوں پر داد رسی کی جائے اور پاک عرب ھاوسنگ سکیم کے مالکان کو جلد از جلد مسائل حل کرنے کا کہا جائے۔ مزید یہ کہ ان کے خلاف عوام الناس کو دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت قرار واقعی سزا دی جائے۔

پاک عرب سوسائٹی کا فراڈ:

1- ایلوکیشن لیٹر ملنے کے باوجود پوزیشن کا نہ ملنا
2- زمین کی ملکیت نہ ہونے کے باوجود صرف بیعانہ ہونے پر ایلوکیشن لیٹر ایشو کرنا
3- ڈپلیکیٹ پلاٹ کے ایلوکیشن لیٹر ایشو نہ کرنا
4- بلاک GVL, F1 اور F2 کے لوگوں کو آف گراونڈ کرنا اور زبردستی پلاٹ کی فایل سرنڈر کرنے پر مجبود کرنا
5- جن لوگوں کی فایل سرنڈر ہو گءی ہے ان کو نیا ممبر شپ نمبر الاٹ کر دیا گیا ہے، اور پچھلا ممبر شپ نمبر کینسل کر کے نیب میں ان کا کیس حل ہونے کا بیان جمع کروا دیا گیا ہے حالانکہ ان کو پلاٹ کا پو زیشن نہیں دیا گیا ہے۔
6- ڈویلپمنٹ چارجز لینے کے باوجود ڈویلپمنٹ کا کام مکمل نہیں کیا گیا۔
7- بلاک F3 کا فیک نقشہ تیار کر کے لوگوں سے بیان حلفی لینا۔ بلاک over seas کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔
8- نیب میں اقرار کرنے کے باوجود ری فنڈ نہیں دیا گیا
9- سوسائٹی کا نقشہ تا حال فائنل اور پبلک نہیں کیا گیا
10- ایل ڈی اے سے approval ابھی تک نہیں مل سکی اس کے باوجود نیو پلاٹ بیچنے کا کام جاری یے حالانکہ پہلے خریداروں کو ابھی تک پلاٹ نہیں ملے اور LDA ستو پی کر سویا ہوا ہے۔