القادریونیورسٹی حکومتی فنڈز سے نہیں بنائی جا رہی،عمران خان

لاہور(نیوزڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ القادریونیورسٹی حکومتی فنڈز سے نہیں بنائی جا رہی، القادریونیورسٹی کو نمل یونیورسٹی کی طرز پر چلائیں گے، القادریونیورسٹی میں 35 فیصد بچوں کو اسکالرشپ اور 65 فیصد سے فیس وصول کی جائے گی، القادر یونیورسٹی سے اسکالربنیں گے جو دنیا کو اسلام مخالف پروپیگنڈا کا جواب دیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نےسوہاوہ میں القادریونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قیام کے پیچھے علامہ اقبال اور قائد اعظم کی سوچ تھی۔23سال پہلے سیاست شرع کی تو ایک مقصد تھا۔

انہوں نے کہا کہ 23سال پہلے میں نے احساس کیا ہم مقصد سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ پاکستان بننے کے پیچھے کی سوچ کو ماضی کی قیادت نے دفن کردیا۔ عمران خان نے کہا کہ نہ ہم اسلامی رہے نہ فلاحی رہے بس ایک ریاست بن گئے۔ نظریہ ختم ہوجائے تو قوم بھی ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست عدل اور انصاف پر بنی تھی۔ پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصول پر بننا تھا۔ غلطی ہماری تھی ہم نے انصاف نہیں دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فاٹا کے لوگوں کی مدد کرنی ہے ،بلوچستان والے پیچھے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کے بعد جتنے بھی آئے عوام کے خیرخواہ بنے اورگئے تو لندن میں پراپرٹیز تھیں۔ پاکستان کا نظریہ پیچھے چلا گیا تومشرقی پاکستان بھی ٹوٹ گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ القادریونیورسٹی میں 35فیصد بچوں کو اسکالرشپ اور 65فیصد سے فیس وصول کی جائے گی۔ یہ یونیورسٹی حکومتی فنڈز سے نہیں بنایا جارہا، اس یونیورسٹی کو نمل یونیورسٹی کی طرز پر چلائیں گے۔ عران خان نے کہا کہ القادر یونیورسٹی سے اسکالربنیں گے جو دنیا کو اسلام مخالف پروپیگنڈا کا جواب دیں گے۔ القادر یونیورسٹی ریاست مدینہ کے اصول سمجھائے گی۔