کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے نئے آئی جی پنجاب کی حیثیت سے عہدے کا چارج سنبھال لیا

لاہور (اُردو نیوز) کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے نئے آئی جی پنجاب کی حیثیت سے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز آئی جی آفس پہنچے تو پولیس بینڈ نے انہیں سلامی دی۔ کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کارکردگی دکھانے کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں ہے اورمیں آج صرف یہی کہوں کا کہ یہ پولیس کے لیے پیغام ہے جب کہ پولیس فورس کے دیگر کے معاملات مجھ پر چھوڑ دیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار صرف اپنی پرفارمنس بہتر کریں تاکہ معاشرے میں پولیس کا امیج بہتر ہو۔ میں نے 10 ماہ بعد دوبارہ ذمہ داری سنبھالی ہے، میرے بعد یہاں کیا کچھ ہوا اس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ آئی جی پنجاب نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر مجھ پر کرم ہوا ہے اور میں دوبارہ اس عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہوں۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں پر واضح کیا کہ میری ٹیم میں صرف وہی رہے گا جو بہتر کارکردگی دکھائے گا۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے مسلسل آئی جیز تبدیل کرنے کی روایت کے باعث پولیس افسران کے آپس کے تنازعات بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔

نئے تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کی عہدہ سنبھالنے کی تقریب میں سابق آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی شریک نہ ہوئے۔ تقریب میں سی سی پی او لاہور بی اے ناصر، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بھی شرکت نہیں کی جبکہ سابق آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے نئے آئی جی عارف نواز خان کو آنری سٹک بھی نہیں تھمائی۔

پولیس افسران کے رویے کے باعث پرائے آئی جی پنجاب کی ساری ٹیم کو جلد تبدیل کیے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ یاد رہے کہ رواں ماہ دو روز قبل ہی آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کو فارغ کرکے ان کی جگہ کیپٹن (ر) عارف نواز کو نیا آئی جی پنجاب مقرر کردیا گیا تھا۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 9 ماہ میں تیسری مرتبہ آئی جی پنجاب تبدیل کیا ، امجد جاوید سلیمی کو عہدے سے ہٹاکر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی پنجاب میں برسر اقتدار آئی تو نگران حکومت کے آئی جی کلیم امام کو تبدیل کرکے ان کی جگہ محمد طاہر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی، خاتون اول بشریٰ بی بی کی بیٹی کے ساتھ پاکپتن پولیس کی بدسلوکی کا واقعہ سامنے آیا تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ محمد طاہر کے بعد گورنر پنجاب چوہدری سرور کے قریبی تعلق دار امجد سلیمی کو آئی جی پنجاب لگایا گیا تھا، تاہم اب پنجاب پولیس کی سربراہی شہباز شریف کے آخری دور حکومت کے انسپکٹر جنرل اور موجودہ سیکریٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن عارف نواز کو سونپ دی گئی ہے۔