مہمان جاتے جاتے کام کی بات کر گیا مہاتیر محمد کے وزیراعظم عمران خان کے سامنے ’تاریخی الفاظ‘

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ڈاکٹر مہاتیر محمد کا شمار بلاشبہ موجودہ دور کے عظیم ترین مسلمان رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کی معاشی اور سیاسی بصیرت نے ملائشیا کی معیشت کے تنِ مردہ میں ایسی جان ڈالی کہ آج اس کا شمار ایشیا کے اکنامک ٹائیگرز میں ہونے لگا ہے۔ معروف کالم نویس آصف عفان نے اپنے تازہ کالم میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کو شاندار لفظوں میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تین روزہ مصروف دورے کے بعد وطن واپس جا چکے ہیں لیکن جاتے جاتے وہ کام کی بات کہہ گئے ہیں کہ’’قیادت کرپٹ نہیں ہونی چاہیے، ورنہ کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔‘‘ کالم نگار کے مطابق مہاتیر محمد کی بات سولہ آنے نہیں، بلکہ سولہ سو آنے بالکل درست ہے۔

کرپشن کے خلاف برسرپیکار حکومت کو ایک مہمان سربراہ حکومت کا گھر آ کر ایسی بات کہہ جانا ایسا ہی ہے کہ ’بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی‘‘ گویا وہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ اور اصل بیماری کیا ہے۔آصف عفان نے اپنے کالم میں مزید یہ بھی لکھا ہے کہ بدقسمتی سے ماضی میں ہمارا حکمران اور صاحبِ اختیار طبقہ کرپشن اور لوٹ مار کے بُرے کام پر جس طرح نازاں اور مطمئن رہا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی قومی خدمت سر انجام دے رہا ہو۔تحریک انصاف نے بھی عوام کو کرپشن فری پاکستان کا خواب دکھایا تھا، جو بتدریج اب ایک جھانسہ بنتا چلا گیا ہے۔

کالم نگار نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں معیشت سے لے کر عوام کی قسمت تک سب پر جمود طاری ہے۔ احتساب کی بھُول بھلیوں میں اُلجھا کر عوام کو ایک ایسے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے جس کی سمت اور منزل کے بارے میں کچھ بھی کہنا نااُمیدی ہے۔احتساب کے بڑے بڑے کیسز کمزور استغاثہ کی نذر ہو گئے ہیں۔ بے پناہ حکومتی وسائل کے باوجود قومی اہداف کے حصول میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کالم نگار کے آخر میں وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے مشورے پر کان ضرور دھریں ویسے اُنہیں اس مشورے کے ماننے یا نہ ماننے کا اختیار وزیر اعظم عمران خان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔