ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر ۔۔۔ پنجاب حکومت بازی لے گئی

لاہور (اردو نیوز) ملک میں پانی کی قلت کو پورا کرنے اور پانی کا بحران ہونے کے خدشے کے پیش نظر ڈیمز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا جس کے لیے وزیراعظم چیف جسٹس ڈیم فنڈ بھی قائم کیا گیا ۔ دیامر بھاشا اور مہند ڈیمز کی تعمیر کے لیے مطلوبہ رقم جمع ہونے میں وقت درکار ہونے کے پیش نظر وقتی طور پر چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تاہم ملک میں ڈیمز تعمیر کرنے کے معاملے پر پنجاب حکومت سب پر بازی لے گئی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ڈوڈوچہ ڈیم کی تعمیرسے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کا پلان جمع کروادیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے نمائندہ نے بتایا کہ رواں مہینے ڈیم کی تعمیرکے کام کا آغاز کر دیا جائے گا اور زمین کی خریداری کے لیے پنجاب حکومت نے بجٹ میں 2 ارب 80 کروڑ روپے مختص کردیے گئے ہیں۔

منصوبے کے تحت ڈیم دو سال کی قلیل مدت میں مکمل ہوگا جبکہ نومبر2020ء تک ڈیم میں پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دے رکھا ہے ۔ یکم نومبر کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے پیر کو ڈوڈوچہ ڈیم راولپنڈی کی تعمیر کے مراحل اورمرحلہ وار پلان جمع کروانے کاحکم دیا تھا اور کہا تھا کہ گذشتہ 4 سال سے ٹال مٹول کی جارہی ہے۔

آبی وسائل تعمیر کرنے ہیں، ڈیمز کی تعمیر میں بیورو کریسی کے معاملات کو کاوٹ نہیں بننے دیں گے، ڈوڈوچہ ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے والے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔ واضح رہےکہ ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور ممکنہ آبی بحران کے خدشے کے پیش نظر حکومت نے دو بڑے ڈیمز دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ ڈیم فنڈ بھی مختص کیا گیا تھا جس میں پاکستانیوں نے دل کھول کر عطیات جمع کروائے۔

تاہم اب حکومت نے مزید 5 ڈیمز تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت آبی وسائل کے ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے چنیوٹ ڈیم (0.85 ایم اے ایف)، سیوک ڈیم (5 ایم اے ایف)، کھوڑی ڈیم (6 ایم اے ایف، ڈھڈیال ڈیم (1.00 ایم اے ایف)، اسکردو ڈیم ( 3.20 ایم اے ایف) تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی تیار کرلیا ہے ۔ حکومت پانی کے مسئے سے نمٹنے کے لئے اس تجویز پر بھی عمل پیرا ہے کہ ملک میں دستیاب قیمتی پانی کے باکفایت استعمال کے لئے آبپاشی کے لئے چھڑکاؤ اور ڈرپ کے ذریعے آب پاشی سے متعلق جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے ۔

یاد رہے کہ حال ہی میں واپڈا کے ذریعے پانی ذخیرہ کرنے کے لئے منگلا ڈیم ریزنگ (2.88 ایم اے ایف)، گومل زام ڈیم (0.892 ایم اے ایف)، ست پارہ ڈیم (0.053 ایم اے ایف) اور دراوٹ ڈیم ( 0.089 ایم اے ایف) مکمل کئے گئے ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کیلئے 12 ارب ڈالرز یعنی 1400 ارب روپے سے زائد کی رقم درکار ہے۔وزیراعظم، چیف جسٹس ڈیم فنڈ 7 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے لیکن اب رقم جمع ہونے میں کچھ وقت لگے گا ، تب تک حکومت نے آبی بحران کے خدشے کے پیش نظر 5 چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز جمع کرنے کے لیے بنک اکاؤنٹس مخصوص کیے گئے ہیں جس میں عطیے کی رقم جمع کروائی جا سکتی ہے۔اس بنک اکاؤنٹ کا ٹائٹل دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ 2018ء (”DIAMER-BHASHA AND MOHMAND DAM FUND –2018”) رکھا گیا ہے اور اکاؤنٹ نمبر 4-001-299999-593-03 ہے جبکہ آئی بی این نمبر PK06SBPP0035932999990014 ہے۔ جہاں ڈیمز کی تعمیر کے لیے عطیہ جمع کروایا جا سکتا ہے۔