مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ، مولانا فضل الرحمان شرکت نہیں کریں گے

اکوڑہ خٹک (اُردو نیوز) جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو گذشتہ روز قاتلانہ حملے میں چاقوؤں کے وار کر کے شہید کر دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق نامعلوم ملزمان نے مولانا سمیع الحق کے گھر میں گھُس کر ان پر چاقوؤں کےوار کیے۔قاتلانہ حملے کے وقت گھر میں مولانا سمیع الحق کے علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا، ڈرائیور اور ملازم نے گھر واپسی پر مولانا سمیع الحق کو خون میں لت پت دیکھا تو فوری طور پر اسپتال منتقل لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔

مولانا سمیع الحق کی شہادت پر ان کے اہل خانہ کو تعزیتی پیغامات موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ آج سہ پہر 3 بجے ادا کی جائے گی۔ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شریک نہیں ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کو بھی حملے کے خطرے سے متعلق ایک سرکاری خط یکم نومبر کو ارسال کیا گیا تھا ۔مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ میں مولانا فضل الرحمان کے شریک نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ سکیورٹی خدشہ ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں۔دوسری جانب مولانا سمیع الحق کی میت راولپنڈی سے آبائی علاقے اکوڑہ خٹک پہنچادی گئی ہے جہاں سہ پہر 3 بجے ان کی نماز جنازہ گورنمنٹ خوشحال خٹک کالج کے کے گراونڈ میں ادا کی جائے گی۔

سربراہ دارالعلوم حقانیہ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ کے لیے کالج کے گراؤنڈ کی صفائی کا کام جاری ہے جبکہ اس حوالے سے بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی چیکنگ میں مصروف ہے۔ مولانا کی تدفین جامعہ حقانیہ کے احاطے میں ان کے والد مولانا عبد الحق کے پہلو میں کی جائے گی۔ یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت پر خیبرپختونخوا حکومت نے آج یوم سوگ کا اعلان کررکھا ہے جس کے تحت تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں