بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کا دن، تاریخ کے کچھ یادگار واقعات و تصاویر

لاہور(اردو نیوز) آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 70واں یوم وفات ہے جو پورے ملک میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 ستمبر 1948ء کو 71 سال کی عمر میں وفات پائی.

محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ محمد علی جناح کا پیدائشی نام محمد علی جناح بھائی تھا.

1930ء سے جناح تپ دق کے شکار چلے آ رہے تھے اور یہ بات صرف ان کی بہن اور چند دیگر ساتھیوں کو معلوم تھی۔ جناح نے اس کا اعلان عوام میں نہیں کیا کیونکہ ان کے نزدیک یہ انہیں سیاسی طور پر نقصان دے سکتی تھی۔

6 جولائی 1948ء کو جناح کوئٹہ روانہ ہوئے اور ڈاکٹروں کے مشورے پر آپ مزید اونچے مقام زیارت منتقل ہوئے، جہاں انھوں نے اپنے آخری ایام گزارے. 9 ستمبر کو جناح کو نمونیا نے آگھیرا۔

اب ڈاکٹروں نے انہیں کراچی کا مشورہ دیاجہاں وہ بہتر علاج کر سکتے تھے اور ان کی رضامندی پر وہ 11 ستمبر کو کراچی رونا ہوئے. ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر الہٰی بخش کا اندازہ ہے کہ جناح کی کراچی جانے کی رضامندی انہیں اپنے زندگی سے مایوس ہونے کی وجہ سے تھی۔ جب اس طیارے نے کراچی میں لینڈنگ کی تو فوراً جناح کو ایک ایمبولیس میں لٹایا گیا۔

لیکن یہ ایمبولینس راستے میں خراب ہو گئی تب تک جناح اور ان کے رفقاءمتبادل ایمبولینس کا انتظار کرتے رہے، انہیں کار میں بھٹایا نہیں جاسکتا تھا کیونکہ وہ سیدھے بیٹھنے کی حالت میں نا تھے۔ وہ لوگ شدید گرمی میں وہاں انتظار کرتے رہے اور ان کے سامنے سے گاڑیاں اور ٹرکیں گزرتی رہی جنہیں اس قریب المرگ شخص کی پہچان نا تھی۔

ایک گھنٹے کی انتظار کے بعد ایک ایمبولینس پہنچی اور جناح کو سرکاری گھر میں منتقل کیا گیا۔ جناح صبح کے 10:20 منٹ پر اپنے کراچی گھر میں 11 ستمبر 1948ء کو پاکستان بننے کے صرف ایک سال بعد انتقال کر گئے۔

جناح کو 12 ستمبر 1948ء کو دفنا دیا گیا۔ ان کے جنازے پر لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ بھارت کے گورنر جنرل راجہ گوپال اچاری نے اس دن ایک سرکاری تقریب کو اس مرحوم قائد کے اعزاز میں منسوخ کیا۔

آج جناح کراچی میں سنگ مرمر کے ایک مقبرے مزار قائد میں آسودہ خاک ہیں۔ اس حوالے ڈان اخبار نے اس وقت قئد کے انتقال کی خبر شائع کی تھی.