غریب گھر کی لڑکی کی شادی ہو گئی ، کچھ عرصے بعد ہی لڑکی نے اپنے والدین کو بتایا کہ یہ اس کا سسر یہ کام کرتا ہے ایک مظلوم لڑکی کی اندوہناک داستان سامنے آگئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) غریب اور متوسط طبقے کے لوگ معاشرے میں سب سے زیادہ عدم تحفظ اور عدم مساوات کا شکا رہیں۔ بالخصوص خواتین کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ۔ کم عمری میں بیاہ کر اپنے سسرال جانے والی لڑکیوں کو سسرالیوں کے مظالم اور جبرو استبداد کا سامنا رہتا ہے اور ان کے ماں باپ بھی کچھ نہیں کر سکتے ۔ ایسا ہی ایک لرزہ خیز واقعہ صبا نامی ایک مظلوم لڑکی کے ساتھ پیش آیا ۔ ایک سوشل میڈیا سائٹ پر اپنی بہن کی کہانی شیئر کرتے ہوئے صبا کے بھائی نے اپنی بہن کی کہانی لکھتے ہوئے بتایا کہ صبا میری بڑی بہن تھی ، اس نے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرتے ہوئے اے ون گریڈ حاصل کیا تھا ۔

جبکہ انٹرمیڈیٹ کے بعد ایک سکول کے نرسری سیکشن میں پڑھانا شروع کر دیا تھا، اسی دوران اس کا رشتہ آیا جس کو والدین نے قبول کر لیا اور 13فروری2014کو اس کی 21سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ چند دن بعد ہی صبا نے اپنے ساتھ سسرال میں ہونیوالی بدسلوکی بارے گھر والوں کو بتانا شروع کر دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا سسر اسے بے حد غلیظ گالیاں دیتا، ساس بھی ہر وقت طعنے دیتی پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ایک بیٹے سے نوازا، سسرال والوں نے اس موقع پر حد ہی کرتے ہوئے اس کے بیٹے کی کالی رنگت کی وجہ سے اسے اپنی اولاد ماننے سے انکار کر دیا۔ میری بہن ایک ننھے بچے کی ماں ہونے کے باوجود روزانہ تقریباً 20افراد کا کھانا بناتی تھی اور ان کی بدسلوکی بھی برداشت کرتی تھی۔ پھر اس کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی لیکن ان لوگوں کی بدسلوکی میں کمی آنے کی بجائے مزیداضافہ ہوگیا۔

ایک دن اس کے شوہر نے اسے اتنے زور سے تھپڑ مارا کہ اس کے کان میں سے خون بہنا شروع ہوگیا۔چند روز قبل کمرے کی صفائی نہ ہونے پر ایک بارپھر ان کے درمیان لڑائی ہوئی۔ ابو نے ان لوگوںسے بات کی اور دونوں میاں بیوی کو سمجھایا لیکن دو دن قبل ہمیں بہن کے سسرال سے کال آئی اور بتایا گیا کہ صبا نے خود کشی کرلی ہے۔ میری بہن ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی، میں جانتا ہوں کہ وہ کبھی بھی خود کشی نہیں کرسکتی۔ اسے ماردیا گیا ہے۔ میں نے اپنی بہن کا جنازہ اٹھایا ہے، میں نہیں چاہتا کسی اور کی بہن کےساتھ ایسا ہو۔مجھے اپنی بہن کے لئے انصاف چاہیے۔