پاکستان کا وہ بس سٹیشن جو بچوں کی جسم فروشی کا گڑھ ہے، یہ کہاں واقعہ ہے؟

وفاقی دارلحکومت یا راولپنڈی آنے جانے والا ہر شخص پیر ودھائی بس اڈے کا نام جانتا ہے. ملک بھر سے سینکڑوں بسیں یہاں ہر روز آتی اور جاتی ہیں. بظاہر یہاں سب کچھ نارمل نظر آتا ہے لیکن اصل حقیقت ایسی شرمناک ہے کہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے. ویب سائٹ Crowdh.com پر شائع ہونے والی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ بس اڈا بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کا گڑھ بن چکا ہے.

بدقسمتی سے یہ جرائم سب کے سامنے ہورہے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی. اس بس اڈے پر کمسن لڑکوں کی ایک بڑی تعداد پھرتی نظر آتی ہے جو دن میں بظاہر بھکاری نظر آتے ہیں لیکن رات کے وقت بہت مختلف کام کرتے ہیں. یہ بسوں کے پاس کھڑے ہوتے ہیں اور مرد مسافروں سے پوچھتے ہیں کہ انہیں قیام کے لئے جگہ درکار ہے؟ اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اور کیا خدمات فراہم کرتے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں ”خوبصورت لڑکے.“ اس بھیانک دھندے کا آغاز دن ڈھلتے ہی ہوجاتا ہے.

منڈی چوک سے پیرودھائی کے درمیانی علاقے میں سب کی آنکھوں کے سامنے یہ دھندا ہوتا ہے. یہاں کسی کو بھی جنسی ہوس پوری کرنے کے لئے کمسن لڑکا 100 سے 200 روپے میں مل سکتا ہے. یہ بدقسمت بچے عام طور ر گھروں سے بھاگنے کے بعد سہارے کی تلاش میں جنسی مجرموں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں. ابتدائی طور پر انہیں کام دلوانے کا جھانسہ دیا جاتا ہے لیکن بعدازاں انہیں جسم فروشی پر مجبور کردیا جاتا ہے.

یہ بچے صرف جسم فروشی پر ہی مجبور نہیں ہوتے بلکہ ان کے اردگرد موجود جرائم پیشہ افراد انہیں نشے پر بھی لگادیتے ہیں جس کا نتیجہ انہیں بیماری اور حتیٰ کہ موت کی صورت میں بھی دیکھنا پڑتا ہے. حکام کی بے حسی کا عالم دیکھئے کہ اہل علاقہ کی بار بار کی درخواستوں کے باوجود کوئی اس شرمناک دھندے کا نوٹس تک لینے پر تیار نہیں