قسمت ہماری دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند ، دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گئے ، انکاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار امیگریشن کی خاتون افسر شبانہ کے ہاتھوں فرار ہوتے پکڑے گئے

نقیب اللہ محسود کے پولیس مقابلے میں ہلاکت کے معاملے میں راؤ انوار کو عہد ے سے ہٹا کر ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے تاہم انہوں نے اس کے باجود بھی ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ایف آئی اے حکام نے ان کی کوشش ناکام بنا دی ۔ تفصیلات کے مطابق راؤ انوار نے اپنے ساتھی کے ذریعے ایئرپورٹ کا بورڈنگ پاس حاصل کیا اور ان کا سامان بھی ان کے ساتھی نے ہی جمع کروایا جس کے بعد راؤ انوار سیدھے ایف آئی اے کے امیگریشن کاؤنٹر پر گئے اور جہاں راؤ انوار سے این او سی طلب کیا گیا جو کہ راؤ انوار کے پاس نہیں تھا جس پر سابق ایس ایس پی نے اصرار کیا وہ جاسکتے ہیں ان کے پاس چھٹی کا لیٹر موجود ہے ۔

امیگریشن کاؤنٹر پر موجود شخص نے اپنی شفٹ انچار ج شبانہ کو بلایا اور انہوں نے بھی آ کر سندھ پولیس کا این او سی طلب کیا لیکن وہ این او سی دینے میں قاصر رہے ۔ شبانہ نے اپنے دیگر ایف آئی اے کے افسروں کو اعتماد میں لیا ۔ راؤ انوار کا سامان جہاز میں منتقل کر دیا گیا تھا لیکن جب مذاکرات میں ناکام رہے تو انہیں ایئرپورٹ سے واپس جانا پڑا ۔ اس موقع پر راؤ انوار نے معمول سے ہٹ کر ٹوپی بھی پہن رکھی تھی ۔ دوسری جانب راؤ انوار کے خلاف نقیب اللہ محسود کے گھر والوں نے ایف آئی آر کا ڈرافٹ بھی تیار کر لیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ کچھ ہی دیر میں مقدمہ درج کروایا جائے گا ۔ تاہم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی خبروں کی مسلسل تردید کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں میں کراچی میں ہی موجود ہوں تاہم اب یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وہ ایئرپورٹ پر کیا لینے گئے تھے۔