سی پیک پراجیکٹ کے تحت بننے والی صرف سڑکوں سے ہی موصول ہونے والا ٹول ٹیکس پاکستان کے مجموعی بجٹ سے کتنا زیادہ ہوگا؟

سی پیک کی اہمیت کو عالمی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے ۔یہ صرف 57 بلین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ نہیں بلکہ اسکے تحت چا ئنا 3000 کلو میٹر طویل، کاشغر سے لیکر گوادر تک روٹ کی تعمیر ، پائپ لائن اور ریل کی پٹڑی بچھانے کا منصوبہ شامل ہے ۔ اسکے علاوہ چین پاکستان کے توانائی کے شعبے میں بھی مالی و فنی معاونت کریگا ۔اسے دنیا کا بہترین معاشی پروجیکٹ مانا جا رہا ہے اور پاکستان نے چین کو اس پروجیکٹ پر کام شروع کرنے کے لئے تین روٹس کا منصوبہ پیش کیا ہے ۔ ان میں مغربی روٹ کم فاصلے کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے گزرے گا اسی طرح دوسرا روٹ سندھ اور پنجاب سے گزرے گا اور تیسرا شمالی راستہ ہے یہ پورے ملک کو کور کریگا جو شاہراہ قراقرم کے ذریعے کاشغر سے ملتا ہے اس لئے کہا جا رہا ہے کہ سی پیک پاکستان کے لئے صرف گیم چینجر ہی نہیں بلکہ فیٹ چینجر ثابت ہوگا جس سے خطے میں امن و معاشی استحکام آئے گا اور ملک کے چاروں صوبے اس سے استفادہ کرینگے اس سے نہ صرف علاقائی تجارتی سرمایہ کار مستفید ہونگے بلکہ ہر عا م وخاص کو فائدہ پہنچے گا ۔

قومی اخبار’’دی نیوز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق سی پیک منصوبہ 2030 میں مکمل آپریشنل ہو جائے گا جس کے بعد اس کے تحت بننے والی سڑکوں سے جتنا ٹول ٹیکس اکٹھا ہوگا وہ پاکستان کے حالیہ قومی بجٹ سے تین گنا زیادہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر بورڈ آف انویسٹمنٹ ذوالفقار علی نے کہا ہے کہ سی پیک کے تحت کاروباری وتجارتی سرگرمیوں اور خصوصی اکنامک زونز کی تعمیر کے ذریعے روز گار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی نے انفراسٹرکچر اور دیگر صنعتی سرگرمیوں کیلئے 2025 تک پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا ہدف 250 ارب ڈالر مقرر کر رکھا ہے۔ پاکستان نے چین کے تعاون سے پہلے ہی 7 اکنامک زونز کی تعمیر پر کام شروع کر رکھا ہے جن میں سے تین تین پنجاب اور سندھ میں جبکہ ایک خیبر پختونخوا میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ سی پیک کے تحت ملک میں سڑکوں کے جال بچھائے جائیں گے جس سے ملک کا مواصلاتی نظام بہتر ہوگا اس میں کوئی شک نہیں کہیں بھی مواصلاتی نظام میں بہتری سے علاقے میں ترقی وخوشحال آتی ہے کلچرل گیپ ختم ہوجاتا ہے کرایوں میں کمی آجاتی ہے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی و دیگر سامان برباد ہونے سے بچ جاتا ہے ۔

اس کے علاوہ برآمدات بھی بڑھنے لگیں گی، مزید برآں پاک چین اقتصادی راہداری سے ملک میں روزگا ر اور ترقی کا نیا باب شروع ہوگا اور زندگی کے ہر شعبے میں چاہے تعلیم ہو یا صحت کے میدان میں اقتصادی انقلاب برپا ہوگا۔ امید ظاہرکی جا رہی ہے کہ سی پیک کے جتنے بھی منصوبے ہیں اگر ان پر دلچسپی کے ساتھ کام ہو اتو پاکستان بہت جلد دنیا کے نقشے پر مضبوط معاشی ،تعلیمی وترقی یافتہ ملک کے طور پر نمودار ہوگا ۔ گوادر کو اللہ تعالیٰ نے ایک خوبصورت جغرافیائی محل وقوع عطا کیا ہے اور یہ دنیا کی تیسری گہری پورٹ ہے اور یہاں دنیا کے بڑے بڑے بحری جہاز لنگر انداز ہوسکتے ہیں .ا ن خصوصیات نے گوادر کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے اور یہ آبنائے ہرمزسے 72 کلو میٹر کی دوری پر ہے جہاں سے تقریباً دنیا کا ایک تہائی تیل گزرتا ہے اور چین بھی زیادہ تر تیل مشرق وسطیٰ ممالک سعودی عرب ،عراق اور ایران ہی سے خریدتا ہے اور اپنے ملک پہنچاتے ہوئے انھیں 35 سے40 دن لگتے ہیں لیکن پاکستان کے زمینی راستے سے اسے دس دن لگیں گے ۔

چین کا 75 فیصد تیل South China Sea کے راستے سے ہی گزارا جاتا ہے اگر اس تیل کا آدھا حصہ بھی پاکستان کے زمینی راستے سے گزارا جائیگا تو اسے سالانہ دوارب ڈالر کا منافع ہوگا کیونکہ انھیں گلف سے ہوتے ہوئے آبنائے ہرمز پھر بحیرہ عرب اس سے آگے South China Sea کو کراس کرتے ہوئے ہانگ کانگ، شنگھا ئی یا پھر تیا زنگ پورٹ پہنچا یا جاتا ہے اور یہ تقریباً 12000 سے زائد کلو میٹر بنتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ South China Sea پر مسئلے چل رہے ہیں جیسا کہ فلپائن ، ویتنام اور تائیوان اور کئی دوسرے ممالک اس پر اپنا قبضہ جمانا چا ہ رہے ہیں اس کے علاوہ آبنائے ملائکا پر چین کے لیے مستقل خطرہ ہے جو مستقبل میں چین کی تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے اس لئے چین کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ پاکستان کا زمینی راستہ استعمال کرنے سے ایسے تمام مسائل سے چھٹکار ا حاصل کیا جائے ۔