اسحاق ڈار کے خلاف نیب میں گواہی دینے والے نادرا کے افسر کے ساتھ کیا سلوک ہوا اور وہ اب کس حال میں ہے؟

اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس میں ایک اہم گواہ کا تنازع کھڑا ہوگیا، نادرا کے گواہ قابوس حیدر نے اسحاق ڈار کے خلاف 21 اگست کو نیب میں ریکارڈ جمع کرایا اور 23 اگست کو ان کو نوکری سے برخاست کردیا گیا، اب قابوس حیدر کے پاس نہ کوئی ریکارڈ ہے اور نہ نوکری اس لیے نیب کےنادرا میں واحد گواہ نے احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کے خلاف بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا ہے۔

جمعرات کو نجی ٹی وی کے مطابق اثاثہ جات کیس میں اسحاق ڈار کے خلاف اہم گواہ کا تنازع کھڑا ہوگیا ہے،نادرا کے گواہ قابوس حیدر کو شہادت کیلئے تیار رہنے کا نیب کی جانب سے نوٹس ملا ہے، قابوس حیدر نے 21 اگست کو نیب کو ریکارڈ جمع کرایا اور 23 اگست کو ان کو نوکری سے برخاست کردیاگیا، قابوس حیدر کہتے ہیں کہ برطرف ہونے کے بعد ریکارڈ اب کہاں سے لاؤں، قابوس حیدر نے نادرا کی جانب سے اسحاق ڈار کے خلاف ریکارڈ جمع کرایا تھا، نیب کو کسی بھی تاریخ کو احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کے خلاف شہادت دینے کا نوٹس موصول ہوا، لیکن چونکہ اب وہ نادرا کے ملازم نہیں رہے اور نہ ان کے پاس کوئی ریکارڈ ہے اس لیے اب وہ اپنا بیان ریکارڈ نہیں کراسکتے۔

قابوس حیدر نیب کے پاس نادرا کے واحد گواہ تھے، جن کے پیچھے ہٹ جانے کے بعد نیب کوپریشانی کا سامنا ہے، نیب کو 28 گواہوں میں سے اسحاق ڈار کے خلاف ایک گواہ کم ہوگیا ہے، اب نادرا اسحاق ڈار کے خلاف کوئی شخص گواہی دینے والا نہیں رہا۔