سعودیہ سے کراچی آنے والی پرواز میں متعدد مسافر بےہوش

کراچی: خراب ایئرکنڈشننگ سسٹم کے باوجود سعودیہ عرب سے عازمین حج کو لے کر کراچی کے لیے اڑان بھرنے والی پرواز نے نہ صرف مسافروں کی جان خطرے میں ڈال دی بلکہ ان کا سفر تین گھنٹے تک التواء کا شکار رہا۔ ذرائع کے مطابق کیبن کے درجہ حرارت میں اضافے اور گھٹن کی وجہ سے طیارے میں سوار کئی حاجی بےہوش ہوگئے۔ پیر (11 ستمبر) کے روز ایک ویریفاڈ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں طیارے کے خارجی راستے کے نزدیک مسافروں کو بےہوش ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

طیارے میں سوار ایک مسافر کی جانب سے شیئر کی گئی پہلی ویڈیو میں مسافر کاغذ سے خود کو ہوا کرتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ چند بزرگ افراد بےہوش ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب ایئرلائن کی پرواز ایس وی-706 نے عازمین حج کو لے کر ہفتے کی دوپہر کراچی پہنچنا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر پرواز شیڈول کے مطابق نہ پہنچ سکی۔ مسافروں کے مطابق متعدد خواتین اور بچوں کو طیارے میں بیٹھنے کے بعد علم ہوا کہ ایئر کنڈشننگ سسٹم صحیح کام نہیں کررہا، ان افراد نے طیارے کے عملے سے شکایت کی جس پر انہیں بتایا گیا کہ طیارے کے اڑان بھرنے سے قبل مسئلہ حل کردیا جائے گا تاہم ایسا نہیں ہوا۔

فلائٹ آپریشن کے معیاری طریقہ کار کے تحت کسی میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں طیارہ ہنگامی لینڈنگ کرسکتا ہے۔ کراچی ایئرپورٹ ذرائع نے بھی پرواز میں پیش آنے والی اس صورتحال کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیبن کے عملے کو اس تکنیکی خرابی کا علم ہوا اس وقت تک تمام مسافر طیارے میں سوار ہوچکے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایئرکنڈشننگ کے اس مسئلے کی وجہ سے طیارہ ایک گھنٹے تک ٹیک آف نہیں کرسکا ’بعد ازاں عملے نے اس امید پر پرواز کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا کہ جلد ہی ایئر کنڈشننگ سسٹم کام کرنا شروع کردے گا‘۔

سارا اقبال اور ان کے شوہردوحہ روانگی سے قبل اپنے بچوں کو نانا نانی کے گھر سے لینے کے لیے ایس وی-706 کے ذریعے کراچی آرہے تھے۔ سارا اقبال نے بتایا کہ سعودی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے ہمیں ڈپارٹ ہونا تھا لیکن پرواز دو گھنٹے کے لیے ملتوی کردی گئی، ہم آن بورڈ تھے جب ہمیں علم ہوا کہ طیارے کا کولنگ سسٹم صحیح کام نہیں کررہا اور کیبن کا درجہ حرارت کم کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے‘۔

سارا اقبال کے مطابق ’آدھے گھنٹے کے بعد انہوں نے 300 سے زائد حاجیوں کو طیارے میں سوار کرنا شروع کیا، ہم ہینگر ٹنل میں موجود تھے جب ہم نے دیکھا کہ پسینے میں شرابور ایئرہوسٹس مسافروں کا خیرمقدم کررہی ہیں، ان کا میک اپپ چہرے سے بہہ رہا تھا لیکن ان کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا‘۔ خاتون مسافر کا کہنا تھا کہ ’عملے اور سپروائزر نے ہمیں بتایا کہ طیارے کے اڑان بھرنے کے بعد ایئر کنڈشننگ سسٹم کام کرنا شروع کردے گا‘۔

انہوں نے بتایا کہ طیارے نے ساڑھے 4 بجے ٹیک آف کیا اور اس وقت ای سی طیارے میں گرم ہوا پھینک رہا تھا، لوگ بے چین ہونا شروع ہوگئے اور بار بار اپنی نشست سے اٹھ کر شکایت کرتے رہے۔ سارا کے مطابق سپروائزر نے سخت لہجے میں مسافروں سے کہا کہ وہ مزید آدھے گھنٹے انتظار کریں لیکن 45 منٹ گزرگئے اور معمر خواتین بےہوش ہونے لگیں جبکہ دیگر افراد کو بھی گھٹن اور درجہ حرارت سے گھبراہٹ ہونے لگی۔

طیارے میں موجود ڈاکٹرز نے بےہوش مسافروں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں ہمیں پتہ چلا کہ کاک پٹ میں اے سی ٹھیک کام کررہا تھا۔ اس ساری صورتحال کے حوالے سے جب سعودی ایئرلائنز آپریشنز کے کراچی ایئرپورٹ پر موجود آفس سے رابطہ کیا گیا تو فون اٹھانے والے اسٹاف ممبر کا کہنا تھا کہ انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں۔