تمام کیڈرز کے سرکاری ملازمین کی مجموعی طور پراپ گریڈیشن اور ریگولرائزیشن ، زبردست اعلان کردیاگیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے این ٹی ایس اور دیگر ایسے اداروں کے ذریعے بھرتی ہونے والے خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری شعبوں کے تمام کیڈرز کے سرکاری ملازمین کی مجموعی طور پراپ گریڈیشن اور ریگولرائزیشن سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہدایت کی ہے کہ مختلف محکموں میں خدمات سر انجام دینے والے تمام کیڈرز کے سرکاری ملازمین کے لئے جامع ،مناسب اور مساوی سروس سٹرکچر تشکیل دینے کے لئے جامع ڈیزائن اور خاکہ تیار کیاجائےجو کابینہ کے سامنے پیش کیاجائے اور کابینہ کی منظوری کے بعد مذکورہ ڈیزائن مطلوبہ قانون سازی کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گاتاکہ اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کر دیاجائے اور تمام ملازمین کو بلا امتیازانصاف فراہم کیاجائے۔

وہ آج وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں سرکاری ملازمین کے تمام کیڈرز کی اپ گریڈیشن کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔آئی جی پی صلاح الدین محسود،سیکرٹری خزانہ شکیل قادر،پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ محمد اسرار اور محکمہ ہائے اسٹبلشمنٹ،قانون،انتظامیہ اور دیگر کے سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو این ٹی ایس اور دیگر لیگل فورمز کے ذریعے بھرتی ہونے والے ملازمین کی ریگولرائزیشن،مختلف سرکاری کیڈر پوسٹوں کی اپ گریڈیشن پر کی گئی اب تک کی پیش رفت کے بارے میں بریف کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ تمام سرکاری شعبوں میں مختلف کیڈرز کے سرکاری ملازمین کی ترقیوں کے مواقعوں کی توسیع کے لئے ڈیزائن اور خاکہ وضع کریں۔

انہوں نے انتظامی سیکرٹریز سے بھی کہا کہ وہ مکمل ڈیٹا بھی تیارکریں جو قانون سازی کیلئے جامع مساوی پالیسی رہنما اصولوں کا حصہ ہوگا اور یہ ڈیٹاسیکرٹریز کمیٹی کے فورم پر ترتیب دیا جائے اور یہ ڈیٹا ہر ممکن طور پرکم تر مدت کے اندر لازمی طور پرانہیں پیش کیا جائے اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں کوئی پسند و ناپسند نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے مذکورہ تمام عمل پر آنے والے مالیاتی اخراجات کا جائز ہ لینے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے سروس سٹرکچر کے تمام عمل کے مربوط مطالعہ،اسے تمام ملازمین کیلئے یکساں بنانے اور سیکرٹریز کمیٹی کی طرف سے صحیح اعداد و شمار جمع کرنے کی ہدایت کی تاکہ اسے قانونی فورم کو پیش کیاجائے۔

چیف سیکرٹری تمام پہلوؤں کو احتیاط سے دیکھنے کے بعد جمع شدہ اعداد و شمار ایک مہینے کے اندر جمع کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے مختلف محکموں کے ملازمین کے موجودہ سروس سٹرکچر میں خامیوں کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے اور جو محکمے اس کے بغیر ہیں اور جو بار بار سروس سٹرکچر کامطالبہ کر رہے ہیں ان کیلئے سروس سٹرکچر بنانیکی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ انکی حکومت تمام تمام سرکاری ملازمین کے جائزمسائل ایک یونیفارم اپروچ کے تحت مساویانہ طریقہ کار کے ذریعے حل کرنیکی خواہش مند ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کو اپنے سروس سٹرکچر کے ذریعے آگے بڑھنے کے بہت زیادہ مواقع ہوں گے۔یہ کوئی انصاف نہیں کہ ایک سرکاری شعبہ میں بھرتی ہونے والے ملازم کو پوری زندگی میں ترقی کاموقع نہ ملے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ کسی نے اصل مسئلہ کو سمجھا اور نہ ہی انہوں نے اس سلسلے میں کوئی کام کیا۔یہی وجہ ہے کہ یہ مسلۂ بڑھتا گیا اور ان کی حکومت کو منتقل ہوا تاہم ان کی حکومت نے جس طرح دوسرے پیچیدہ مسائل حل کئے اسی طرح سرکاری ملازمین کے سروس سٹرکچر،اپ گریڈیشن اور ریگولرائزیشن کے مسائل بھی صحیح اپروچ کے ذریعے حل کر لے گی اور ضروری قانون سازی کرے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی اس مسئلے کے حل کے بعد سرکاری ملازمین اداروں کی مضبوطی کیلئے مزید جانفشانی سے کام کریں گے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں ان کی حکومت کے تحت کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کی جائیگی اور یہ صوبہ دوسروں کے لئے ایک رول ماڈل بنے گا۔