خیبر پختونخوا حکومت چھاگئی، بڑا کام کر دکھایا

صوبہ خیبر پختونخوا جو کبھی امن کا گہوارہ تھا، کا روایتی امن دوبارہ واپس لوٹ آنانہایت ہی اہم شگون اور مثبت قدم ہے جس کااندازہ مختلف سماجی، ثقافتی اور تجارتی سرگرمیوں بالخصوص حالیہ یوم آزادی کی تقریبات کوبھر پور جوش و جذبے اور شایان شان طریقے سے منانے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اس امر کا انکشاف یہاں ایک سرکاری سروے میں کیاگیا ہے جسمیں لکھا گیا ہے کہ حالیہ یوم آزادی کی تقریبات جس والہانہ انداز میں منائی گئی اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔جسمیں معاشرے کے ہر طبقے کے افراد نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیااور اپنے اپنے انداز میں وطن عزیز سے بے لوث والہانہ محبت کا اظہار کیا۔

سروے میں مزید لکھاگیا ہے کہ یوم آزادی کی تقریبات میں ہر عمر کے افراد جسمیں بچے، بوڑھے، جوان اور سنیئر شہری شامل ہیں نے بھر پور حصہ لیا۔ صوبہ بھر بالخصوص پشاور میں 13،14 اور 15 اگست کی ساری رات عوام کا جم غفیر سڑکوں پر اُمڈ آیا۔یہ نہایت ہی دلفریب منظر تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہاتھوں میں قومی پرچم تھامے سٹرکوں پر نکل کر وطن عزیزکے گن گارہے تھے۔ اورمختلف سرکاری محکوں اور تنظیموں کی جانب سے منعقدہ پروگراموں میں جوق درجوق شرکت کرکے محبت کی وطن سے سرشار نظر آرہے تھے۔ سروے میں آگے لکھا گیاہے کہ بعض جگہوں پر آزادی کے متوالوں کا اتنا جم غفیر اکٹھا ہوگیا کہ وہاں پر ٹریفک جام ہوگیا تاہم خوش آئند بات یہ تھی کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔

پشاور پولیس بشمول ٹریفک پولیس عوام کی سہولت اور ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے ہر جگہ پہلے سے موجود اور تیار تھی۔ اسی طرح لوگوں کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ بعض سنیئر شہریوں کو اگرایکطرف یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ پشاور جس امن ، سکون اور روایتی اقدار کے لیے مشہور تھا وہ دوبارہ لوٹ کرآیا ہے تو دوسری طرف خیبر پختونخوا پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ایجنسیوں کے اہلکاروں کی جانب سے اپنی خون سے تاریخ رقم کرنے کی جرات و بہادری کی داستانیں بھی زد عام تھی۔اور ساتھ ساتھ آنے والے ماہ وسال میں امن و آمان کی اس سے بہتر صورتحال کی اُمید پر تھے۔

سروے میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ آزادی کی تقریبات کو شایان شان اور بھر پور طریقے سے منانے کا عمل صرف پشاور تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ صوبے کے تمام بڑے بڑے شہریوں میں آزادی کی تقریبات کوروایتی جوش و جذبے کے ساتھ مناکرزندہ قوم کا ثبوت پیش کیا گیا۔بلا شبہ صوبے کے تمام اضلاع میں لوگوں کا بلا خوف و خطر اتنی بڑی تعداد میں اکٹھا ہونا اور تقریبات منانا یقیناًپولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ایجنسیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر بھر پور اعتماد کا آئینہ دار ہے۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ جو کہ نہ صرف بہتر سیکورٹی صورتحال بلکہ عوام کے بھر پور اعتماد اور احساس تحفظ کی غمازی کرتی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا پچھلے ایک عشرے سے دہشت گردی کا شکار رہا جس کے نتیجے میں عوام کی معاشی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیاں بُری طرح متاثر ہورہی تھی۔ دہشت گردی کے بادل ہر وقت سر پر منڈلا ر ہے تھے اور لوگوں کے ذہن میں ہر وقت دہشت گردی کے خدشات کی وجہ سے تمام اہم تقریبات/ رسومات کامنانا ماند پڑگیا تھا۔تاہم فورسز بالخصوص خیبر پختونخوا پولیس کی لازوال قربانیاں اور دن رات کی کوششیں رنگ لے آئیں۔ جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور یوں لوگوں میں احساس تحفظ بڑھ گیا۔اور آزادی کی تقریبات کو شایان شان طریقے سے منا کر ایک زندہ قوم کا ثبوت پیش کیا۔