وزیراعظم کا اپنی کابینہ سے بڑا اختیار واپس لینے کا فیصلہ

اسلام آباد (اُردو نیوز) وزیراعظم کا اپنی کابینہ سے بڑا اختیار واپس لینے کا فیصلہ، آئندہ سے کابینہ کے پاس کسی بھی ادارے کا سربراہ تعینات کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، اداروں کے سربراہان کی تعیناتی وزیراعظم، متعلقہ وزیر یا سیکرٹری کی جانب سے کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ سے اداروں اور کمپنیوں کے سربراہان کی تعیناتی کا اختیار واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ سے وہ خود، متعلقہ وزیر یا سیکرٹری کی جانب سے کسی بھی ادارے یا کمپنی کے سربراہ کی تعیناتی کا فیصلہ کریں گے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو خط لکھ دیا ہے۔ تمام وزارتوں کو اپنے قوانین اور قواعد میں جلد ازجلد ترمیم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کابینہ ڈویژن نے 15ستمبر تک تمام وزارتوں کو عملدرآمدرپورٹ ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سے قبل منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ کابینہ اجلاس میں حکومت کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کیا گیا ،معاشی اور سفارتی کامیابیوں پر کابینہ میں تفصیلی بات چیت کی گئی ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سفارتی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔

بھارت سمیت خطے میں جاری اہم معاملات پر روشنی ڈالی۔وفاقی وزیر اسد عمر نے ملکی ترقی کیلئے حکومتی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا اور کہاکہ وزیراعظم کی کامیاب حکمت عملی سے کورونا پر قابو پایا، وزیراعظم کریز پر سیٹل ہو چکے ہیں اب لمبی اننگ کھیلیں گے۔ فیصل واوڈا نے وزیراعظم کو بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع ہونے پر مبارکباد دی۔ شیخ رشید نے ایم ایل ون منصوبہ عمران خان کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

ثانیہ نشتر نے کہاکہ ملکی تاریخ میں غربت میں کمی کا سب سے بڑا پروگرام شروع ہوا،احساس پروگرا م شروع کرنے پر وزیراعظم مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اتحادی جماعتوں کے اراکین نے بھی وزیراعظم کو اہم کامیابیوں پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے 2سال مکمل ہونے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ 24 سالہ جدوجہدابھی ختم نہیں ہوئی، معاشرے کے کمزور طبقہ کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے، ہماری جدو جہد کا محور ہر کمزور پاکستانی ہے۔ مدینے کی فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینا چاہتا ہوں۔ جتنا بھی مشکل وقت آئے، عوام کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ عام آدمی کی زندگی بہتر بنانا جدو جہد کا اصل مقصد ہے۔