کرونا وائرس، پاک چین بارڈر بند کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (اردو نیوز) کرونا وائرس نے چین میں تباہی مچا دی ہے،اب تک کرونا وائرس سے 130 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔جب کہ 4 پاکستانی بھی طلبا بھی وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔پاکستان نے مرض سے بچاؤ کے پیش نظر چین کے ساتھ بارڈر بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ترجمان عائشہ فاروقی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے کرونا وائرس سے متعلق حفاظتی اقدامات کے پیش نظر خنجراب کے مقام پر تا حکم ثانی پاک چین بارڈر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل وزارت داخلہ نے بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے عارضی طور پر 2 فروری سے 8 فروری 2020ء تک 186 کنٹینروں کی ٹریڈ کے لیے حکومت گلگت بلتستان کو پاک چین بارڈر کھولنے کے لیے خط لکھا تھا۔گذشتہ روز معاون خصوصی برائے صحت نے بتایا تھا کہ چین میں 4 پاکستانی طلباء میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔
جس کے بعد حکومت سے بار بار اپیل کی جا رہے ہے کہ چین میں پھنسے پاکستانی طالبہ کو واپس لایا جائے۔

پاکستانی طلبا کا کہنا ہے کہ ہمیں چین میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور ان کے پاس راشن بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے گزارش کی تھی کہ جتنا جلد ہو سکے حکومت ان کو پاکستان بلا لے کیونکہ ادھر ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ۔معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ وائرس سے متاثرہ شہر ووہان میں 500 پاکستانی طلبا ہیں جو وہاں کی مقامی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین میں پاکستانی سفارتخانہ طلبا سے رابطے میں ہے۔چاروں پاکستانی طلبا کی صحت میں بہتری آئی ہے۔ جب کہ چین میں کرونا وائرس کے سلسلہ میں چین میں مقیم پاکستانیوں کیلئے ہاٹ لائن قائم کر دی گئی ہے۔ منگل کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ہاٹ لائن گوآن ژو میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل میں قائم کی گئی ہے۔

اس سلسلہ میں قونصلر جنرل ڈاکٹر دیار خان سے 8618813294841 + پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔گذشتہ روزمعاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیر صدارت کرونا وائرس کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات پر غور کیا گیا۔