آج تک کسی ایسی محفل میں نہیں بیٹھا جہاں نشہ ہو رہا ہو

لاہور (اُردو نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما راناثناءاللہ کا کہنا ہے کہ آج تک کسی ایسی محفل میں نہیں بیٹھا جہاں نشہ ہو رہا ہو۔انہوں نے کہا کہ میرے پر الزامات عائد کیے گئے جو کہ بے بنیاد ہیں۔تفصیلات کے مطابق حال ہی میں جیل سے ضمانت پر رہا ہونے والے سابق وزیر قانون پنجاب راناثناءاللہ کا ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئےکہنا ہے کہ مجھے ڈاکٹرز نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہسپتال نہیں جانے دیں گے، میں بیمار نہیں تھا اس لیے بیمار بنا بھی نہیں، میری عمران خان صاحب سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ مجھے جیل میں میڈیکل کی سہولت نہیں دی گئی تھی، اگر حکومت کے پاس ویڈیو موجود ہے تو کہاں ہے؟ انھوں نے مزید بتایا کہ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق بھی اسی جیل میں موجود تھے لیکن میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل منشیات برآمدگی کیس میں جیل جانے اور پھر عدالت سے ضمانت پر رہائی پانے والے سابق صوبائی وزیر قانون اور موجودہ رُکن اسمبلی رانا ثناء اللہ کی جانب سے جیل میں ہونے والے سلوک کے حوالے سے تفصیلات بتائی گئی تھیں ۔

سابق صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ مجھے کوئی سہولت نہیں دی گئی۔ مجھے جب گرفتار کیا گیا تھا تو اس سے قبل میری دائیں آنکھ میں انفیکشن ہوا تھا، جس کا میں کئی روز سے علاج کروا رہا تھا۔ میں نے جیل میں ڈاکٹر سے کہا کہ اگر آپ لوگ مجھے اس کا مکمل ٹریٹمنٹ نہیں کروانے دیں گی، تو اس انفیکشن کے بعد ہونے والی ریکوری رُک جائے گی۔ میں نے علاج سے متعلق ساری دستاویزات بھی پیش کر دیں تھیں، تمام ثبوت دے دیئے مگر انہوں نے مجھے صاف طور پر کہہ دِیا تھا کہ آپ کو جیل کے ہسپتا ل میں قدم بھی نہیں رکھنے دِیا جائے گا۔

ہسپتال کو اُٹھا کر میرے پاس لایا جا سکتا ہے، مگر مجھے ہسپتال نہیں لے جایا جائے گا۔ آپ اس بارے میں سوچیں بھی نہ۔ اتنا سخت موسم تھا۔ کہ اگر باہر ٹمپریچر 50 ہوتا تھا تو جیل کی کوٹھڑی میں یہ درجہ حرارت 65تک ہو تا تھا۔ جیل کے سیل تندور کی طرح دہک رہے ہوتے تھے، آپ یقین کریں کہ پنکھے کے نیچے بیٹھ کر بھی پسینہ خشک نہیں ہوتا تھا۔ میں وہاں سو بھی نہیں سکتا تھا تو مشکلات تو بالکل تھیں۔