شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے آزادی مارچ میں مذہب کارڈ استعمال نہ کرنے پر اتفاق کر لیا

لاہور (اُردو نیوز) شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے آزادی مارچ میں مذہب کارڈ استعمال نہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں رہنما مارچ موخر کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیاہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کو یہاں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالہ سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کی طرف سے ملاقات میں سابق وزراء اعظم راجہ پرویز اشرف، سیّد یوسف رضا گیلانی، سیّد نوید قمر اور فرحت الله بابر جبکہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق، رانا تنویر حسین، احسن اقبال، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، ڈاکٹر درشن، مشاہد حسین سیّد، امیر مقام، مریم اورنگزیب، سابق سپیکر ایاز صادق اور مرتضیٰ جاوید عباسی شریک ہوئے۔

اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں دونوں اطراف سے آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد اور آزادی مارچ کے حوالہ سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے بعد پیپلز پارٹی بھی آزادی مارچ موخر کرنے کی حامی ہے۔دونوں رہنماؤں نے آزادی مارچ میں مذہب کارڈ استعمال نہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اور ن لیگ کے رہنماء مولانا فضل الرحمان سے جلد ملاقات کریں گے۔