نواز شریف کی جیل سے اے سی اُتارنے کے معاملے پر شہباز شریف کا چیف سیکرٹری کو خط

لاہور (اُردو نیوز) سابق وزیراعظم نواز شریف کی جیل سے اے سی اُتارنے کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ دیا۔ شہباز شریف نے اپنے خط میں لکھا کہ نواز شریف کی جیل سے اے سی اتارنے کا خط پنجاب حکومت کے میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی خلاف ورزی ہے۔ خط کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب حکومت نے آئی جی جیل خانہ جات کو 17 جولائی کو خط لکھ کر اے سی اُتارنے کی ہدایت کی جس کے مطابق یہ اقدام وزیراعظم کے حکم پر کیا جا رہا ہے، آپ کی توجہ پنجاب حکومت کے تشکیل کردہ بورڈ کی سفارشات کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔

شہباز شریف نے خط میں لکھا کہ میڈیکل بورڈ کی سب سے پہلی سفارش یہی ہے کہ نواز شریف کو مناسب درجہ حرارت والے کمرے میں رکھا جائے، بورڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مناسب درجہ حرارت میں نہ رکھنے سے ان کے گردے فیل ہو سکتے ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں محکمہ داخلہ کی سرد مہری پر حیران ہوں کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق کلیدی نکتہ کو کیسے نظر انداز کر دیا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی انتقام کی خاطر یہ اقدام میرے قائد اور بھائی کی جان پر حملہ ہے۔ نواز شریف کے کمرے سے اے سی اُتارنے کا مطلب میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی خلاف ورزی ہے۔ میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ شہباز شریف کے خط کی کاپیاں چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ پنجاب اور آئی جی جیل خانہ جات کو بھی بھجوائی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ واپس جاتے ہی نواز شریف اور آصف علی زرداری کو جیل میں دی جانے والی سہولیات واپس لے لوں گا۔ جس کے بعد پہلے یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا کوٹ لکھپت جیل میں اے سی بند کیا گیا تو انہوں نے جیلر کی منتیں شروع کر دیں اور کہا کہ ایسا نہ کرو مجھے پت ہو چاتی ہے ۔

گرمی کی وجہ سے مجھے الرجی ہو جائے گی جس پر جیلر نے سابق وزیراعظم کو جواب دیا کہ ایسا کرنے کے لیے ہمیں اوپر سے آرڈر آیا ہے۔ تاہم بعد ازاں ان خبروں کی تردید کر دی گئی تھی۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کرپشن کیس میں جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف سے اے سی اور بی کلاس کی سہولت واپس نہیں لی گئی۔

جیل انتظامیہ کے مطابق ابھی تک حکومت کی جانب سے سہولیات واپس لیے جانے کا خط موصول نہیں ہوا اور جب تک تحریری حکم نامہ موصول نہیں ہو گا تب تک نواز شریف سے سہولیات واپس نہیں لی جائیں گی۔