مجھے لگ رہا کہ مریم بی بی آخری جواء کھیل رہی ہے، حسن نثار

لاہور(اردو نیوز) سینئر تجزیہ کار حسن نثار نے کہا ہے کہ مجھے لگ رہا کہ مریم بی بی آخری جواء کھیل رہی ہے، مریم نواز کا رویہ نام نہاد جمہوریت کیلئے بھی خود کش ثابت ہوسکتا ہے، اوپر سے ان کے مشیر جن کا مجھے بڑا اندازہ ہے، اللہ ہی ان پر رحم کرے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ مریم نواز کا رویہ نام نہاد جمہوریت کیلئے بھی خود کش ثابت ہوسکتا ہے۔

بنیادی طور پر یہ خودکش حملہ ہے۔بلی کیلئے سارے دروازے بند ہوجائیں تو آنکھوں پر جھپٹی ہے ، یہ تو بیٹی ہے۔بیٹی بھی وہ جو دیکھ رہی ہے کہ اگر سازگار صورتحال تو وہ دوبارہ ساری چیزوں کو حاصل کرنے کے قابل ہوجائے گی۔لیکن ایک فلم ہے جس میں شکاری بھیڑیوں کے لیے لگائے ٹریپ میں خودپھنس جاتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ مریم بی بی آخری جواء کھیل رہی ہے۔

اوپر سے ان کے مشیر جن کا مجھے بڑا اندازہ ہے، اللہ ہی ان پر رحم کرے۔ دوسری جانب نائب صدر ن لیگ مریم نواز کی ویڈیو اور جج ارشد ملک کے بیان حلفی پر ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے عدالت نوازشریف کا پہلا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ری ٹرائل کا حکم دے، آصف زرداری کا 2001ء کا مقدمہ دیکھیں، تو عدالت نے اطلاق کیا تھا کہ اگر کسی ٹرائل میں شکوک وشبہات پیدا ہوجائیں تو تمام کاروائی کالعدم ہوجاتی ہے، یہ درست ہے کہ جس عدالت میں نوازشریف کی اپیل زیرسماعت ہے،ن لیگ وہیں اپیل کررہی ہے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی بنیادی سوال ہے مشکوک ہوجاتا ہے کہ عدالتی امور سرانجام دے سکتے ہیں اس لیے ان کو ہٹا دیا گیا ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ جج ارشد ملک کاحلفیہ بیان ویڈیو کے بعد سامنے آیا۔ان کا حلفیہ بیان کوفوجداری مقدمات کے لحاظ سے دیکھا جائے تواس میں سنگین اور مجرمانہ الزامات لگائے گئے ہیں، اگر اس طرح کے الزامات میں ایف آئی آر کٹوانے میں چند گھنٹوں یا چند دنوں کی تاخیر ہوجائے تو یہ تمام رپورٹس مشکوک تصور کی جاتی ہیں۔

ابھی تک سارے معاملے کا کوئی گواہ سامنے نہیں آیا ہے۔ سپریم کورٹ سارے معاملے کو غور سے دیکھے گی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج کی تعیناتی ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد کی جاتی ہے۔ معاملہ بڑا دلچسپ ہے کہ ایک شخص جوکہتا میری 2005ء میں ویڈیو موجود تھی، تو پھر اس کو2017ء میں احتساب عدالت کا جج کیسے مقرر کردیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ اگر جج ارشد ملک کے فیصلوں کو دیکھا جائے کہ وہ برقراررہ سکتے ہیں تو2001ء میں آصف زرداری پر جو مقدمہ تھا، اس پر عدالت نے اطلاق کیا تھا۔

عدالت سمجھتی ہے کہ اگر معاملہ مشکوک ہے تو تمام ٹرائل مشکوک ہوجاتا ہے، اور ایسے فیصلوں کو کالعدم قراردیا جاتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ری ٹرائل کا حکم دے دیا جائے۔ سلمان راجہ نے کہا کہ ن لیگ درست کررہی ہے کہ جج ارشد ملک کے حوالے سے اپیل اسی عدالت میں پیش کرے جہاں ہونی چاہیے۔ کیونکہ وہاں نوازشریف کی اپیل زیرسماعت بھی ہے اس لیے وہیں اپیل کی جاسکتی ہے۔