وزیرستان سے پاک فوج کے نکلنے جانے کا مطالبہ کرنے والے محسن داوڑ نے اے پی ایس حملے کے خلاف ایک لفظ نہیں بولاتھا

شمالی وزیرستان (اردو نیوز) 26مئی کو بویا میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والے محسن داوڑ اور علی وزیرکو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ افغان میڈیا اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ محسن داوڑ کے حق میں پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔محسن داوڑ وزیرستان سے پاک فوج کے نکلنے جانے کا مطالبہ کر چکا ہے تاہم یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آپریشن ضرب عضب سے وہ ڈرون حملوں کا حامی تھا ۔

آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کے حملے پر محسن داوڑ کچھ نہ بولا تھا مگر جب پاک فوج نے آپریشن ضربِ عضب کرکے دہشتگردوں کو ختم کرنا شروع کیا محسن داوڑ کو پاک فوج کے خلاف وزیرستان، فاٹا اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں لانچ کردیا گیا۔اب سوال اٹھ رہے ہیں کہ محسن داوڑ کو لانچ کرنے والا کون ہے ؟واضح رہے کہ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں پاک فوج نے 1لاکھ کے قریب آپریشن کئے جن میں فوج کو بڑی کامیابیاں ملیں۔

چابق امریکی سینیٹر جان مکین سمیت پوری دنیا اعتراف کرچکی ہے کہ پاک فوج نے پاکستان سے دہشتگردوں کو ختم کر کے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 2001سے لے کر اب تک 81ہزار 7سو پاکستانی شہید ہوچکے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی ایک بھی موت پرمحسن داوڑ نے مذمت نہیں کی لیکن جب محسن داوڑ کی جانب سے فوجی چیک پوسٹ پر حملے کی وجہ سے قانون حرکت میں آیا توبھارتی،برطانوی،امریکی،اور افغانی میڈیا نے اس کے حق میں واویلاشروع کردیا ۔

جب بھی محسن داوڑ کو سزا دینے کی بات کی جاتی ہے تو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے سابق سربراہ رحمت آ نبیل اس کی حمایت میں میدان میں نکل آتے ہیں ۔ محسن داوڑ کی مفروری کے دوران ایک غیر ملکی سفارتخانے میں اس کی کال ٹریس کی گئی ، اس کال پر بھی بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں کہ محسن داوڑ نے مفروری کی حالت میں کس حمایت کے لیے غیر ممالک سے رابطہ کیا ؟ یاد رہے کہ 26مئی کو محسن داوڑ اور علی وزیر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا جس میں ایک اہلکار شہید جبکہ 5زخمی ہو گئے تھے جوابی کاروائی مین 3حملہ آور جاں بحق جبکہ 10زخمی ہو گئے تھے۔
اس حملے کے بعد علی وزیر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ محسن داوڑ کو فرار ہونے کے 2دن بعد گرفتار کیا گیا تھا۔