چئیرمین نیب کے ساتھ ویڈیو میں موجود خاتون سے متعلق حیران کن انکشافات سامنے آ گئے

اسلام آباد (اُردو نیوز) چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے ساتھ ویڈیو میں موجود خاتون سے متعلق حیران کن انکشافات سامنے آ گئے۔معروف صحافی ذوالفقار راحت کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون کی اپنے شوہر کے ساتھ کنٹریکٹ میرج تھی۔دونوں کے مابین یہ کانٹریکٹ تھا کہ ہم لوٹ مار کریں گے اور سب کچھ دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا۔

دونوں اس کام میں پوری طرح ٹرینڈ تھے۔طیبہ نامی خاتون آئی ٹی کے حوالے سے بھی ٹرینڈ تھی۔خاتون اپنے آپکو ایل ایل بی کا طالبہ ظاہر کرتی تھی۔میاں بیوی مل کر ایک گینگ آپریٹ کرتے رہے جس میں کچھ بااثر لوگ بھی شامل تھے جن میں ایف آئی اے کے لوگ اور پولیس افسران بھی شامل تھے۔جن لوگوں کو یہ میاں بیوی دھوکہ دیتے تھے وہ بعد میں ذلیل ہوتے رہتے تھے۔

ان کی پہنچ اتنی اوپر تک کی تھی کہ انہوں نے آئی جی پنجاب سے ایک ایسا لیٹر جاری کروایا جس میں لکھا تھا کہ ان کے پچھلے سارے مقدمات ختم کیے جائیں اور مستقبل میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہو سکتا۔طیبہ کے شوہر فاروق نول اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں ہیں جب کہ خاتون نے قانون کے امتحانات دینے کی بنیاد پر عدالت سے ضمانت لی۔اس وقت بھی خاتون وہاں دھمکیاں دے کر گئی تھی اور کہا تھا کہ اب جو میں کروں گی اس کے بعد پورا پاکستان ہل جائے گا۔

مجھے ایک وکیل نے بتایا کہ عدالت میں نیب کے لوگوں کی موجودگی میں خاتون نے دھمکیاں دیں اور کہا کہ اب وہ کچھ بہت بڑا کرنے جا رہی تھی۔جب خاتون وہاں سے رہا ہوئی تو اس کا بااثر لوگوں کے ساتھ رابطہ تھا۔بااثر لوگوں نے اس خاتون کے ساتھ رابطہ کیا۔بظاہر لگ رہا ہے کہ اس سارے کھیل کا کوئی ماسٹر مائنڈ ہے جو کہ باہر بھاگ گیا ہے۔اور بہت بااثر لوگ اس گینگ میں شامل ہو گئے جب کہ ان لوگوں کے خلاف بھی نیب میں کیس تھے۔

اور پھر ایک منصوبے کے تحت ویڈیوز کو چلوانے کے لیے ایک ایسے چینل کا انتخاب کیا گیا جس کے سی ای او کہ وزیراعظم عمران خان کے ایڈوائزر تھے اس طرح سے چئیرمین نیب اور حکومت کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔اور اس کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ چئیرمین نیب دباؤ میں آ کر استفعیٰ دے دیں یا پھر ہمیں کچھ ریلیف دیں۔