پاکستان میں تیل و گیس کے ذخیرے دریافت ہونے کے معاملے پر مایوس نہ ہوں

اسلام آباد (نیوزڈیسک) : پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت نہ ہونے پر عوام مایوسی کا شکار ہو گئی جبکہ حکومت کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے تجزیہ کار مسعود ابدالی کا کہنا تھا کہ عوام کو اس معاملے پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ذخیرے کے اوپر کے حصے میں گیس کے آثار ہیں جس کے نیچے پانی ہے۔ یعنی بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ گیس سے بھری چٹان کی موٹائی اتنی نہیں کہ یہاں سے تجارتی بنیادوں پر گیس نکالی کی جاسکے۔ بلاشبہ اسے آپ ناکامی کہہ سکتے ہیں جس کا ملک دشمن میڈیا ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا” کہہ کر مذاق اڑا رہا ہے لیکن ارضیات کے طلبہ کے لیے یہ نتائج کسی بھی اعتبار سے مایوس کُن نہیں ہیں۔

چند برس پہلے شیل نے کیکڑا کے جنوب میں ایک کنواں کھودا تھا جہاں نہ Cap Rock کا کوئی سراغ ملا اور نہ مسامدار چٹانوں کی موجود گی کا احساس ہوا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کیکڑا سے ملنے والی معلومات نے اُمید اور اعتماد کی نئی شمع روشن کی ہے جس کی روشنی میں نئے کنویں کے لیے جگہ کا تعین زیادہ باوثوق انداز میں کیا جاسکے گا۔ اب ماہرین کو زیر زمین پانی کے پھیلاؤ اور ان گیلی چٹانوں کی ڈھلان کا اندازہ کرنا ہے تاکہ نیا سوراخ وہاں کیا جائے جہاں گیس سے بھری چٹانوں کی موٹائی زیادہ ہو۔ کیکڑا کے حتمی نتائج کا ہمیں علم نہیں بلکہ یہ شاید ای این آئی کو بھی معلوم نہ ہو کہ ٹیسٹ اور اس کا تجزیہ ابھی جاری ہے۔

لیکن جو ابتدائی معلومات میڈیا پر آئی ہیں اس کے مطابق اس بات میں اب کوئی شبہ نہیں کہ یہاں منبع موجود ہے، یہاں ذخیرہ کرنے والی چونے کے پتھر کی مسامدار چٹانیں بھی موجود ہیں۔ یہ مسام ملے ہوئے ہیں اس لئے ان میں موجود تیل و گیس کو حرکت میں لانا مشکل نہیں، غیر مسامدار چٹانوں نے ذخیرے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ کیکڑا کسی بھی اعتبار سے ناکامی نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ کروڑوں ڈالر خرچ کر کے جو قیمتی معلومات حاصل ہوئی ہیں انہیں مایوسی کی دیمک کا رزق بنانے کے بجائے ان کی بنیاد پر نئے کنویں کی تیاری شروع کر دی جائے۔

جو لوگ رقم ڈوبنے کا ماتم کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ تیل کی تلاش کے لیے گہری جیب، مضبوط دل اور آہنی اعصاب بنیادی جزو ہیں۔ یہ چھوٹے دل اور ذرا سی مشکل پر ہتھیار رکھ دینے والوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ ان بہادروں کا کام ہے جو ناکامیوں کو پیروں تلے مسل کر نیا راستہ بنانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس بات میں قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانی سمندر کی تہوں میں تیل و گیس کا ایک سمندر موجزن ہے اور انشااللہ ایک دن یہ ضرور دریافت ہوگا۔ وسائل و قابلیت اور ہنرمند افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں، بس حوصلہ مند، مخلص اور بے خوف تکنیکی اور سیاسی قیادت درکار ہے۔