آج کی سب سے بڑی خبر:پاکستانیوں ہمت نہیں ہارنی،جب ہمارے ملک میں ڈرلنگ ہوئی تو کیا ہوا تھا؟پاکستان میں تعینات ناروے کے سفیر نے ایسا انکشاف کر دیا کہ عمران خان پر تنقید کر نے والوں کی بولتی بند ہو گئی

لاہور ( ویب ڈیسک ) پاکستان میں تعینات ناروے کے سفیر نے کیکڑا 1 میں ڈرلنگ کی ناکامی کے باوجود عوام کو مایوس نہ ہونے کا مشورہ دے دیا، ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں ناروے کے سفیر نے کہا کہ حوصلہ کریں۔ ہم نے سمندر میں ڈرلنگ کی 32 ناکام کوششوں کے بعد تیل و گیس کے ذخائر دریافت کیے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سمندری حدود میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے کام میں ناکام کے بعد اس معاملے پر پاکستان میں تعینات ناروے کے سفیر کی جانب سے پاکستانی قوم کے نام خسوصی پیغام جاری کیا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں ناروے کے سفیر نے کہا کہ ناروے نے بھی سمندری حدود میں ڈرلنگ کی 32 ناکام کوششوں کے بعد توانائی کے ذخائر تک رسائی حاصل کی تھی۔ اس لیے کیکڑا 1 میں ڈرلنگ کی ناکامی کے باجود حوصلہ کریں، مایوس نہ ہوں۔ دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں پاکستان کی سمندری حدود سے تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے کام کے حوالے سے قوم کو ایک نئی امید دے دی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین ارضیات کی رائے میں کیکڑا 1 کے مقام پر ڈرلنگ کے تائج کسی بھی اعتبار سے مایوس کن نہیں ہیں۔

سمندری حدود میں کیکڑا 1 کے مقام پر توانائی کے ذخائر کی تلاش کا کام مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا۔ جس مقام پر ڈرلنگ کی گئی وہاں آس پاس توانائی کے ذخائر موجود ہیں، کسی دوسری جگہ پر ڈرلنگ کرکے ذخائر تک رسائی حاصل کرنے امکان اب بھی موجود ہے۔ جو ابتدائی معلومات میڈیا پر آئی ہیں اس کے مطابق اس بات میں اب کوئی شبہ نہیں کہ یہاں منبع موجود ہے۔ یہاں ذخیرہ کرنے والی چونے کے پتھر کی مسامدار چٹانیں بھی موجود ہیں۔ یہ مسام ملے ہوئے ہیں اس لئے ان میں موجود تیل و گیس کو حرکت میں لانا مشکل نہیں۔

غیر مسامدار چٹانوں نے ذخیرے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ یہ معلومات ملی ہیں کہ ذخیرے کے اوپر کے حصے میں گیس کے آثار ہیں جس کے نیچے پانی ہے، یعنی بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ گیس سے بھری چٹان کی موٹائی اتنی نہیں کہ یہاں سے تجارتی بنیادوں پر گیس نکالی جاسکے۔ تاہم کیکڑا سے ملنے والی معلومات نے امیدو اعتماد کی نئی شمع روشن کی ہے جس کی روشنی میں نئے کنویں کیلئے جگہ کا تعین زیادہ باوثوق انداز میں کیا جاسکے گا۔ اب ماہرین کو زیر زمین پانی کے پھیلاؤ اور ان گیلی چٹانوں کی ڈھلان کا اندازہ کرنا ہے تاکہ نیا سوراخ وہاں کیا جائے جہاں گیس سے بھری چٹانوں کی موٹائی زیادہ ہو۔