ایف آئی اے نے 3پاکستانی لڑکیوں کو چین منتقل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی

لاہور(نیوزڈیسک) ایف آئی اے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 3پاکستانی لڑکیوں کو چین منتقل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سیل کی جانب سے اسلام آباد ایئرپورٹ پر کارروائی کی گئی۔ جہاں تین چینی نوجوان 3 پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ موجود تھے۔ ان نوجوانوں نے خود کو پاکستانی لڑکیوں کا خاوند ظاہر کیا۔ یہ نوجوان انہیں چین اسمگل کرنا چاہتے تھے مگر ایف آئی کی بروقت کارروائی سے اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایف آئی نے تینوں چینی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا جنہیں بعد میں انسدادِ انسانی اسمگلنگ کے انویسٹی گیشن سیل میں منتقل کر دیا گیا۔

ان تینوں پاکستانی لڑکیوں کا تعلق لاہور، راولپنڈی اور سکھر سے بتایا جا تا ہے۔ واضح رہے کہ لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کا یہ کاروبار صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی کیا جارہا ہے۔ میانمار، کمبوڈیا، لاﺅس، شمالی کوریا اور ویت نام سے بھی لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر چین لایا گیا، جہاں اُن سے عصمت فروشی کرائی جاتی رہی۔اس حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آ ڈبلیو نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ میانمار سے ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کو ملازمت کا جھانسا دے کر چین لایا گیا جہاں انہیں نہ صرف دلہن کے طور پر چینی خاندانوں کو فروخت کردیا گیا بلکہ کئی سالوں تک جنسی تعلقات کے لیے غلام بنایا گیا۔

جو خواتین فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں، ان میں سے زیادہ تر کو اپنے بچے چھوڑنے پڑے۔ صحافیوں نے کمبوڈیا، لاو¿س، شمالی کوریا اور ویت نام سے بھی دلہنوں کی اس قسم کی اسمگلنگ کی اطلاعات دی ہیں۔26 اپریل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ایچ آر ڈبلیو نے پاکستانی خواتین اور لڑکیوں کو چین میں جنسی تعلقات کے لیے غلام بنائے جانے کے واقعات میں اضافے پر چین اور پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ لڑکیوں کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔