داتا دربار کا مبینہ خُود کُش حملہ آورکہاں سے آیا تھا، سراغ مِل گیا

لاہور(اُردو نیوز) میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 8 مئی 2019ء کو صبح سویرے داتا دربار کے داخلی دروازے کے باہر ہونے والے مبینہ خود کش دھماکے کے حوالے سے اہم سُراغ مِل گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ خود کُش بمبار ایک موٹر سائیکل رکشہ پر سوار ہو کرداتا دربار پہنچا تھا۔ پولیس نے سی سی ٹی کیمروں کی مدد سے مبینہ خود کُش بمبار کو داتا دربار پہنچانے والے موٹر سائیکل رکشہ کی نشاندہی کر کے اس کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔

ڈرائیور نے بتایا کہ اُس نے مبینہ خود کُش بمبار کو گڑھی شاہو کی جانب سے آتے دیکھا تھا۔ وہ اس کے رکشے پر سوار ہوا اور داتا دربار آ کر اُتر گیا۔ تفتیشی اداروں نے سی سی ٹی وی کی ویڈیوز سے کڑی ملا لی۔ گزشتہ رات پولیس نے گڑھی شاہو سے 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس دہشت گردی واقعے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے مطابق مبینہ خود کش بمبار کی شناخت کے فنگر پرنٹس نادرا کو بھجوائے گئے جو ریکارڈ میں موجود کسی فنگر پرنٹ سے میچ نہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ سانحہ داتا دربار میں مبینہ خود کش حملہ آور کی شناخت معمہ بن گئی۔دھماکے کے وقت مبینہ حملہ آور کی موجودگی سے معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔دھماکہ مبینہ خود کش حملہ آور کی مخالف سمت میں ہوتا نظر آتا ہے۔فوٹیج میں مبینہ حملہ آور کو دھماکے کے وقت کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔انویسٹی گیشن ونگ نے بھی مبینہ حملہ آور کے خود کش ہونے پر سوالات اٹھا دئیے۔

حملہ گاڑی کی مخالف سمت میں خواتین گیٹ کی جانب سے ہوا۔ذرائع انویسٹی گیشن ونگ کے مطابق داتا دربار کے خواتین گیٹ کا رخ لوئر مال کی جانب ہے۔دھماکے کے وقت مبینہ خودکش حملہ آور کا رخ بلال گنج کی جانب تھا۔جب کہ دوسری جانب دہشت گردی کے واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ پنجاب فرانزک ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دہشتگرد کی چپل اور اس کے برانڈ کی تفصیلات مِل گئی ہیں۔خود ک±ش حملہ آور نے بھارتی ساختہ جوتا پہن رکھا تھا۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق حملہ آور کو کسی بڑے دہشتگرد گروپ کی سپورٹ حاصل تھی۔