سانحہ داتا دربار؛ دھماکے کے وقت مبینہ حملہ آور کی موجودگی سے معاملہ الجھ گیا

لاہور(اُردو نیوز) سانحہ داتا دربار میں مبینہ خود کش حملہ آور کی شناخت معمہ بن گئی۔دھماکے کے وقت مبینہ حملہ آور کی موجودگی سے معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔دھماکہ مبینہ خود کش حملہ آور کی مخالف سمت میں ہوتا نظر آتا ہے۔فوٹیج میں مبینہ حملہ آور کو دھماکے کے وقت کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔انویسٹی گیشن ونگ نے بھی مبینہ حملہ آور کے خود کش ہونے پر سوالات اٹھا دئیے۔

حملہ گاڑی کی مخالف سمت میں خواتین گیٹ کی جانب سے ہوا۔ذرائع انویسٹی گیشن ونگ کے مطابق داتا دربار کے خواتین گیٹ کا رخ لوئر مال کی جانب ہے۔دھماکے کے وقت مبینہ خودکش حملہ آور کا رخ بلال گنج کی جانب تھا۔جب کہ دوسری جانب دہشت گردی کے واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ پنجابفرانزک ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دہشتگرد کی چپل اور اس کے برانڈ کی تفصیلات مِل گئی ہیں۔

خود کُش حملہ آور نے بھارتی ساختہ جوتا پہن رکھا تھا۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق حملہ آور کو کسی بڑے دہشتگرد گروپ کی سپورٹ حاصل تھی۔ جس کالعدم تنظیم جس نے داتا درباردہشتگرد ی کی ذمہ داری قبول کی ہے، وہ اس نوعیت کے حملے کی اہلیت نہیں رکھتی ۔یہ گروپ کالعدم جماعت ٹی ٹی پی سے اختلافات کی بناءپر علیحدہ ہو گیا تھا اور ان کا کمانڈر عمر خالد مہمند عرف خراسانی تھا۔

خراسانی ایک ڈرون حملے میں مارا جا چکا ہے ۔اس کالعدم تنظیم کے تانے بانے بھی را اور افغان این ڈی ایس سے جا ملتے ہیں جبکہ افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی دیگر پاکستان مخالف انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی ان گروپس سے رابطے رکھتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبہ ننگرہار،کنڑ،پکتیا،قندھار اور نورستان میں مختلف دہشتگرد گروپس اور غیر مُلکی جنگجوﺅں کی آمد و رفت کئی مرتبہ دیکھی گئی چکی ہے۔

حملہ آور کی فی الحال شناخت نہیں ہو سکی۔ تاہم محتاط اندازے کے مطابق اپنے چہرے کے نقوش سے وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کا رہائشی لگتا ہے، اورافغان باشندہ بھی ہو سکتا ہے ۔ خود کش حملہ آور کی حملے چال ڈھال سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسے حملے سے کچھ وقت پہلے نشہ آور انجکشن لگایا گیا ہے ،تا کہ وہ ٹارگٹ پر دھماکا کرتے وقت بالکل بھی نہ گھبرائے۔ خود کش بمبار کو ٹارگٹ پر لانچ کرنے کے لئے نشہ آور انجکشن کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے ۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ خود کش حملہ آور کو بلوچستان کے راستے پنجاب میں داخل کیا گیا یا پھر اسے افغان صوبہ قندھار سے پاکستان میں داخل کیا گیا۔