اسدعمرکے بعد وزیراعظم نے ایک اورشخصیت کوعہدے سے فارغ کردیا وزیر خزانہ کے عہدے کی برطرفی کے 15 روز بعد ہی بڑا فیصلہ

کراچی/اسلام آباد(ویب ڈیسک )وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی تازہ ترین تبدیلیوں میں حکومت نے گورنر اسٹیٹ بینک (ایس بی پی) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کو ان کے عہدوں سے برطرف کردیا گیا۔گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) وفد سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں موجود تھے جب انہیں ان کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا۔خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک روز قبل ہی اشارہ دیا تھا کہ آئندہ کچھ روز میں ان کی کابینہ میں مزید تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی جگہ حال ہی میں عہدہ سنبھالنے والے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے باضابطہ طور پر اس پیش رفت کے حوالے سے ڈان سے گفتگو نہیں کی البتہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس تبدیلی سے آئی ایم ایف مذاکرات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ ’مارکیٹ ہمارے اقدام کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی، انہیں مجموعی طور پر ہمارے اقدامات اور ہماری پالیسیوں کو دیکھنا پڑے گا‘۔

تاہم یہ اب تک غیر واضح ہے کہ اتنے اہم افسران کی برطرفی آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر کس طرح اثر انداز ہوگی۔ایک جانب جہاں گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے نئے عہدیدار کا اعلان آج (ہفتے کے روز) متوقع ہے تو دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر کے متبادل کے حوالے سے اب تک کوئی اطلاع نہیں۔ان دونوں تبدیلیوں کو انتہائی غیر متوقع قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان جمعے کی رات وہ ملاقاتیں طے کررہے تھے جو انہیں ہفتے کے روز کررہی تھیں اور اسی دوران ان کی برطرفی کی خبر نیعز چیننلز کی زینت بنی۔اسی طرح طارق باجوہ بھی آئی ایم ایف پروگرام کو حتمی شکل دینے سے قبل مذکرات کے آخری دور میں شرکت کررہے تھے۔واضح رہے کہ طارق باجوہ اور جہانزیب خان دونوں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں گریڈ 22 کے افسران ہیں حالانکہ اس سے قبل اس عہدے پر ریٹائرڈ افسران کو تعینات کیا گیا تھا۔اس قبل کچھ اس طرح کی اطلاعات تھیں کہ گورنر اسٹیٹ بینک کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ان کے عہدے سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔

اور ایف بی آر کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر سرِ عام اپنے بیانات میں اس کی کارکردگی پر ناراضی کا اظہار کرچکے ہیں۔خیال رہے کہ ایف بی آر کو رواں مالی سال کے اختتام کے قریب اپنی تاریخ کے سب سے سنگین شارٹ فال کا سامنا ہے جو تقریباً 3 کھرب 50 ارب روپے سے زائد ہے۔دوسری جانب وزارت خزانہ میں موجود ذریعے کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے نزدیک چیئرمین ایف بی آر ایک اوسط درجے کی صلاحیتوں کے حامل شخص ہیں اور ریونیو میں اس قدر خراب کارکردگی کی ذمہ داری ان کی تقرری پر عائد ہوتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں تعینات ہونے والے مشیر خزانہ نے وزیراعظم کے خیالات سے اتفاق کیا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ملک کی معاشی صورتحال سنبھالنے کے لیے اپنی ٹیم لائیں گے۔عہدیداروں کی برطرفی کی خبر کے سامنے آنے پر وزیر برائے ریونیو حماد اظہر کے فون نمبرز بند پائے گئے اور نہ ان کے موقف جاننے کے لیے بھیجے گئے پیغامات کا جواب موصول ہوا۔

ان کے ساتھ ساتھ ملکی اقتصادی امور سے منسلک دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے فون نمبرز بھی بند پائے گئے۔خیال رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں، اور گورنر معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں سے ایک ہوتا ہے جبکہ چیئرمین ایف بی آر کو ریونیو کے حوالے سے اہداف دیے جاتے ہیں اس قسم کے کسی بھی پروگرام کا بنیادی جز ہے۔