پاکستان کیلئے رینٹل پاور پلانٹ کیس میں عائد کردہ 1 ارب ڈالر کے جرمانے سے بچنے کا امکان

اسلام آباد (اُردو نیوز) پاکستان کیلئے رینٹل پاور پلانٹ کیس میں عائد کردہ 1 ارب ڈالر کے جرمانے سے بچنے کا امکان، کیس کے اہم ترین کردار نے رشوت لے کر پیپلز پارٹی حکومت اور ترک کمپنی کے درمیان معاہدہ کروانے کا اعتراف کرلیا۔ تفصیلات کے حکومت پاکستان عالمی عدالت کی جانب سے عائد کردہ 1 ارب ڈالرز کے جرمانے سے بچنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے حکومت خاص کر نیب کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کیس کے اہم ترین کردار لائق احمد نے رشوت لے کر پیپلز پارٹی حکومت اور ترک کمپنی کے درمیان معاہدہ کروانے کا اعتراف کرلیا۔ لائق احمد نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی جانب سے ساڑھے 3 لاکھ روپے کی رشوت حاصل کرکے غیر قانونی طور پر اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت اور ترک کمپنی کارکے کے درمیان رینٹل پاور پلانٹ کا معاہدہ کروایا گیا تھا۔

نیب عدالت نے لائق احمد کا اعترافی بیان اور کیس میں ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ عالمی عدالت میں جمع کروا دی ہے۔ پاکستان نے عالمی عدالت کی جانب سے عائد کردہ 1 ارب ڈالرز کے جرمانے کیخلاف نظرثانی اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔ اس سے قبل نیب نے ملزم لائق احمد کا احتساب عدالت سے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ دوسری جانب ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ جس پیسے کو رشوت کا پیسہ کہا جا رہا ہے، ملزم نے بابر ذوالقرنین نامی شخص کو اس پیسے کی ٹرانزیکشنز کی تھی۔

راجہ بابر ذوالقرنین اور ملزم برادرنسبتی ہیں، ان کی جو ٹرانزیکشنز ہوئی وہ فیملی کا پیسہ ہے۔ میرے موکل کو اس انفارمیشن پر گرفتار کیا جو اس نے خود دی ہے، نیب کے پاس کوئی نئی دستاویزات نہیں ہے۔ جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں 5 ملزمان گرفتار ہیں۔ ملزم اور راجہ ذوالقرنین نے آف شور کمپنی کو ٹرانزیکشنز کی ہیں۔ آف شور کمپنی کو 3 لاکھ 65 ڈالر کی ٹرانزیکشنز ہوئی ہے۔ یہ پیسے کسی کے ذاتی پیسے نہی، حکومت پاکستان کی پیسے تھے۔ یہ جو آف شور کمپنی ہے اس کو ایک دن میں بنایا گیا۔