سابقہ حکومت نے موٹروے گروی رکھ کر آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ، مگر عمران خان سے آئی ایم ایف نے کیا قیمتی چیز مانگ لی؟ ناقابل یقین انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک ) جس دن سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے ان سے مالی معاملات سنبھلنے کو ہی نہیں آ رہے۔حکومت کے بقول خزانہ خالی تھا،قرضے کی اصل قیمت تو الگ اس کا سود ہی اس سے زیادہ ادا کرنا ہے اور قرض اتارنے کے لیے اور قرضہ لینا پڑے گا۔مہنگائی کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔پٹرول،گیس،بجلی،ادویات اور اشیائے خورونوش کیچ قیمتوں میں روز افزوں اضافہ سننے کو مل رہا ہے۔حکومت کے قدم ٹکاتے ہیں ڈالر نے جو اڑان پکڑی وہ آج تک نیچے نہیں آیا۔کئی دوست ممالک کے ترقیاتی پراجیکٹ کے اعلانات اور ان کی طرف سے خیر سگالی قرضہ ملنے کے باوجود بھی ہمارے حالات جوں کے توں ہیں۔اب آ جا کے آئی ایم ایف کا آپشن ہی رہ جاتا ہے۔آئی ایم سے قرضہ لینے کے لیے رواں سال کے آغاز سے ہی بھاگ دوڑ شروع ہو گئی تھی۔

آئی ایم ایف کا ڈیلی گیشن بھی یہاں کے چکر کاٹ چکا ہے۔تاہم قرضہ دینے کے حوالے سے آئی ایم ایف کی جو شرائط ہیں وہ پہلے دن سے ہی شکوک و شبہات پیدا کررہی ہیں۔آئی ایم ایف نے واضح طور پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کے ساتھ پٹرول،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بھی کہا ہے۔آئی ایم ایف اصل میں چاہتی کیا ہے اس حوالے سے ماہر معاشیاتڈاکٹر اشفاق حسین نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف ایک بڑی چال چل رہا ہے یا پھر آپ اسے سازش ہی کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ اس نے جو شرط رکھی ہے وہ کسی طور قابل قبول نہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق ہمارا مالی خسارہ سات فیصد ہے جسے کم کر کے 2.5یا پھر3فیصد پر لانا ہو گا۔اس کا مقصد یہ ہے کہ ہماری معیشت ایک دم سے سکڑ جائے گی۔اب اتنا بڑا خسارہ پورا کرنے کے لیے ہمارے پاس دو ہی آپشن ہیں وگرنہ یہ خسارہ کسی طور کم ہو ہی نہیں سکتا۔پہلا آپشن یہ کہ ہم دفاعی بجٹ ختم کریں یا کم کریں اور دوسرا آپشن یہ کہ ہم ملک میں ترقیاتی پروگرام روک دیں۔تبھی خسارہ کم ہو گااور ہم آئی ایم ایف کی شرائط پر پورا اتریں گے۔اب جو ہمارے حالات ہیں ایسے میں ہم دفاعی بجٹ تو کم کر نہیں سکتے اور اگر حکومت نے ترقیاتی پراجیکٹ روکے تو ملک میں بے روزگاری کی شرح میں اضاف ہو گااور سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف ایسا انقلاب آئے گا کہ سب کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔اب ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ایسی شرائط رکھنے سے آئی ایم ایف کا کیا مقصد ہے اور ہمیں اس حوالے سے کیا منصوبہ بندی کرنا ہو گ