بارات پہنچ چکی تھی ، دلہا اور دلہن کا نکاح ہونے والا تھا کہ اچانک دولہے کی نظر دلہن کے ساتھی بیٹھی ایک خوبرو حسینہ پر پڑ گئی

افسوس اور دکھ کا مقام کہ ہم اپنی شادیوں میں وہ کچھ کر رہے ہیں جو دنیا میں کہیں نہیں ہو رہا۔ لاکھوں کا معاملہ تو اب پرانا ہوا، وطن عزیز میں روزانہ سینکڑوں شادیاں ایسی ہو رہی ہیں، جن کا خرچہ کروڑوں میں ہے۔ اور پھر ہمارے جیسی ویہلی اور بیکار قوم بھی روئے زمین پر نہیں۔ جس شادی کو مہذب دنیا گھنٹوں میں نمٹا دیتی ہے، ہمارے ہاں وہ ہفتوں چلتی

ہے، اور ہر شب شبِ دیگراست‘‘ کا منظر ہوتا ہے۔ ہر روز کوئی نیا ڈرامہ، کوئی نیا اہتمام۔ ڈھولک، مایوں، نکاح، مہندی، بارات، ولیمہ اور پھر دعوتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ ہر تقریب کی روح رواں، نوجوان لڑکے، لڑکیاں، جو انہیں کامیاب بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ زیادہ زور اعضا کی شاعری پر ہے۔ ایک ایک سٹیپ کی گھنٹوں ریہرسل ہوتی ہے، اور کوشش کی جاتی ہے کہ عامر خاں، شاہ رخ اور ملائیکہ، دیپکا سے کہیں پیچھے نہ رہ جائیں بڑوں سے پوچھنے کا رواج تو کب کا ختم ہوا۔ اور ہم بڑوں کی ڈھٹائی بھی دیکھئے کہ اپنی ماڈرن ازم کے زعم میں پولے سے منہ سے کہہ دیتے ہیں۔ ’’کیا حرج ہے جی؟ بچوں کا شوق ہے۔‘‘ نتیجہ یہ کہ سب کچھ دیدہ دلیری سے ہو رہا ہے اور کسی کے ابرو پر بل تک نہیں آتا۔ بیاہ شادی کے نام پر ہونے والے ان ہنگاموں میں ہماری اخلاقی، تمدنی اور مذہبی اقدار کی جو دھجیاں اڑ رہی ہیں، فکر تو دور کی بات، کوئی ذکر کے لئے بھی تیار نہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر ہماری ’’جدیدیت‘‘ کی یہی رفتار رہی تو مزید 5/10 برس بعد سماج کا کیا عالم ہو گا؟ آئیے، اس کی ایک ہلکی سی جھلک آپ کو دکھائے دیتے ہیں۔چند برس پہلے جنوبی پنجاب کے ایک شہر میں ایک شادی ہوئی۔ دولہا کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے اور دلہن پڑھے لکھے، مہذب شہری گھرانے کی۔ پروفیسر صاحب کی تین بیٹیاں ہی تھیں۔ سب سے

بڑی تدریس کے شعبہ میں اور نیچے والی دونوں ڈاکٹر۔ بڑی دونوں کی شادی ہو چکی تھی اور سب سے چھوٹی دلہن بننے جا رہی تھی۔ دوسری طرف لڑکا اور اس کی ڈاکٹر بہن۔ لڑکا صاحب ثروت، مگر تعلیم واجبی، بمشکل ایف اے کر پایا تھا۔ اور یہ جوڑ بنانے میں اس کی بہن نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا جو پانچ برس تک میڈیکل کالج میں دلہن کے ساتھ رہی تھی۔ اور بھائی کیلئے سہیلی پر مَر مِٹی تھی۔ لڑکی والوں نے بہت بہانے کئے، مگر بالآخر ہاں ہو گئی۔دولہا والوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی، کیونکہ بیٹا اکلوتا تھا۔ مہمانوں کے قیام و طعام کا ہفتہ بھر کیلئے شاندار انتظام تھا۔ جہاں شب و روز کی ترتیب بدل گئی تھی۔ دن سوتے اور راتیں جاگتی تھیں۔ ہر شب ایک نیا اہتمام اور سٹیٹ آف دی آرٹ فنکار کرائے کے نہیں، اپنے ہی بچے بچیاں۔ اور ہر پرفارمنس میں ہمسایہ ملک کے ٹاپ فلمسٹارز کو بھی مات کرتے دکھائی دیتے تھے۔ کیاکلجگ ہے کہ مہندی سے پہلے نکاح کا رواج محض اس لیے ہو گیا ہے کہ مہندی کی شب دولہا دلہن کو اکٹھے بٹھا کر دل کی تمام حسرتیں نکال لی جائیں۔دونوں طرف کے طائفوں کی پرفارمنس عروج پر تھی۔ ہمہ خانہ آفتاب والا معاملہ تھا۔ مگر دلہن سائیڈ

کی ایک دور پرے کی رشتے دار لڑکی قیامت ڈھا رہی تھی۔ کشیدہ قامت، متوازن و مناسب خدوخال والی قتالۂ عالم نے ایک بھارتی گانے پر پرفارم کیا، تو ’’صاحب عالم‘‘ کی حالت غیر ہو گئی۔ بہن کو ایک طرف بلا کر کہا کہ میں تو شادی اس والی سے کروں گا۔ وہ سمجھی کہ بھائی مذاق کر رہا ہے۔ ’’کیا بکواس کر رہے ہو؟ تمہارا نکاح ہو چکا۔‘‘ بکواس نہیں کر رہا، تمہاری ڈاکٹر صاحبہ کو فارغ بھی تو کیا جا سکتا ہے۔ بات منہ سے نکلی تو کوٹھوں چڑھی۔ ہر طرف کھسر پھسر ہونے لگی۔ اور پھر سب کچھ طشت ازبام ہو گیا۔ باراتی دولہا کو سمجھاتے رہے، منتیں کرتے رہے۔ ہاتھ جوڑتے رہے۔ باپ نے پگڑی اُتار کر قدموںمیں رکھ دی۔ مگر ڈھاک کے وہی تین پات۔ لڑکی والے بھی سکتے میں تھے، کہ یہ کیا ہو گیا؟اتنے میں مہندی سے لتھڑے ہاتھوں کے ساتھ لڑکی باوقار انداز میں منڈل سے نیچے اُتر آئی۔ باپ کو گلے لگا کر بولی، بابا! پریشانی کس بات کی؟ بہت اچھا ہوا کہ اوقات پہلے ہی کھل گئی۔ اور پھر باراتیوں سے مخاطب ہوئی، تماشہ کیا دیکھ رہے ہو؟ چلو اٹھائو اس ذہنی مریض کو اور چلتے بنو۔ بارات لوٹ گئی۔ مہینہ بھر میں لڑکا اُسی انڈر میٹرک بیوٹی پارلر کی ملازمہ کو بیاہ لایا۔

کچھ عرصہ تو دن عید اور رات شبرات رہی۔ اور عشق کا بھوت اترتے ہی وہی ہوا، جو ایسے کیسز میں ہوتا ہے۔ اُدھر ڈاکٹر صاحبہ اپنے ہی ایک شریف النفس اور لائق فائق ہم پیشہ سے بیاہی گئیں اور بے حد مطمئن زندگی گزار رہی ہیں۔(تحریر:ریاض احمد سید )