رہا ئی کی خوشیاں راس نہ آئیں : والد کی جیل سے رہائی پر حنیف عباسی کے بیٹے نے میدان میں آتے ہی ایسا بیان دے دیا کہ پوری ن لیگ افسردہ ہوگئی

لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے ایف ڈرین کیس میں آج مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی عمر قید کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ جس کے بعد حنیف عباسی کے بیٹے نے کہا کہ والد ضمانت پر رہائی کے باوجود اسپتال میں ہی رہیں گے۔ حنیف عباسی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ میرے والد نے 9 ماہ تک ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹی ہے جس کے بعد اب جا کر ہمیں عدالت سے بڑا ریلیف ملا ہے۔ والد کو ملنے والا ریلید بہن بھائیوں اور بزرگوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صرف یہی الفاظ ہیں کہ ہم عدالت سے انصاف ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضمانتی مچلکوں کے حوالے سے تاحال کچھ علم نہیں ہے۔ عدالت جب تحریری حکم نامہ جاری کرے گی تو اُس میں ضمانتی مچلکوں کا بتایا جائے گا۔ جب حکمنامہ جاری ہو گا تب ضمانتی مچلکے بھی جمع کروا دیں گے۔ حنیف عباسی کے بیٹے نے کہا کہ میرے والد کے خلاف جو کیس بنایا گیا وہ میرٹ کے خلاف تھا۔ ابھی فی الحال والد اسپتال میں ہی ہیں، عدالت کی جانب سے تحریری حکمنامہ آنے کے بعد ہی اُن کو گھر لے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا اور ایک دو دنوں میں انہیں اسپتال سے گھر منتقل کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ آج لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے حنیف عباسی کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حنیف عباسی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی۔ حنیف عباسی کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما جیل میں 4 مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جیل میں انہیں ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے۔ انسداد منشیات عدالت نے فیصلہ اہم قانونی نکات کو نظر انداز کرکے کیا، ادویات سازی کے لیے ایفی ڈرین منگوائی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ کیس میں نامزد دیگر 7 ملزمان کو رہا کیا گیا جبکہ درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے سزا سنائی گئی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ماتحت عدالت نے فیصلہ جاری کرتے وقت اصل حقائق پس پشت ڈال کر سزا سنائی اور ساتھ ہی عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ عدالت سزا معطل کرکے ضمانت منظور کرے اور رہا کرنے کا حکم دے۔ جس پر جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس سرفراز ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حنیف عباسی کی ضمانت منظور کی اور رہائی کا حکم دے دیا۔ واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان پر جولائی 2012ء میں 5 سو کلو گرام ایفی ڈرین حاصل کرنے کا کیس دائر کیا گیا تھا۔21 جولائی 2018 کو راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا جبکہ دیگر 7 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا تھا، اس کے علاوہ حنیف عباسی کو انتخابی سیاست کے لیے تاحیات نا اہل بھی قرار دے دیا گیا تھا۔ جس کے بعد حنیف عباسی نے ایفی ڈرین کیس میں لاہور ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی اپیل دائر کی تھی، جسے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔