میری بہن کے پیچھے لڑکے آتے تھے اور حد تو یہ ہے کہ وہ ، لاہور کی 19 سالہ طالبہ کی اپنے بھائی کے ہاتھوں ہلاکت ، قاتل بھائی نے شرمناک انکشافات کرڈالے

لاہور (ویب ڈیسک) ہمارے ہاں بدبختی فقط یہی نہیں کہ قانون کو بالادستی بار بار چیلنج ہوتی دکھائی دیتی ہے بلکہ انا پسندی اور غیرت کے نام پر ایسے ایسے شرمناک فعل انجام دیئے جارہے ہیں جن کا احوال رونگٹے کھڑے کردینے والا ہوتا ہے ، انسانی بے رحمی کی اور قانون ہاتھ میں لئے جانے کے عوامل جب نامور صحافی یونس باٹھ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ کسی ایک واقعہ میں جمع ہوتے ہیں تو ایسی بھیانک تصویر بنتی ہے جو لاہور میں پیش آنے والے ایک واقعہ کی صورت میں سامنے آئی کہ 19سالہ طالبہ اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔

جو کہ احمد نامی لڑکے نے اپنی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔ بھائی نے بہن کو قتل کرنے کے لیے اپنے دوست کی مدد لی اور دونوں نے مل کر 19 سالہ لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قتل ہو نیوالی مسکان کالج جانے والی طالبہ تھی اس کے بھائی کو بہن کے کردار پر شک تھا اور اسی شک کی بنا پر اسے قتل کیا۔ جب کہ بہن کو قتل کرنے والے بھائی کا کہنا تھا کہ میری بہن کے پیچھے لڑکے بھی آتے تھے جس پر میں نے اسے منع کیا اور کہا کہ تم نے کالج نہیں جانا لیکن اس نے میری بات نہیں سنی اور میرے ساتھ بدتمیزی کی۔ جبکہ قتل کے دوسرے ملزم کا کہنا ہے کہ جب میں لڑکی کو قتل کرنے لگا تو وہ اپنے بھائی کو بھی آوازیں لگاتی رہی اور اس کا نام پکارتی رہی۔ لیکن اس کو معلوم نہ تھا کہ اس کے اپنے بھائی نے ہی قاتل کو یہ راستہ دکھایا ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ ہماری کوشش ہو گی لڑکی کو قتل کرنے والے دونوں ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے اوردونوں ملزمان کو پولیس نے گرفتار بھی کر لیا ہے ۔