القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی وہ پیش گوئی جو20سال بعدسچ ثابت ہوگئی

سینئر صحافی حامد میر نے جنگ نیوز میں ایک تحریر شائع کی ہے جس میں انہوں نے ماضی میں اوسامہ بن لادن کے کیے گئے انٹرویو سے متعلق کچھ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے ۔ حامدمیر کا اپنی تحریر میں کہناتھا کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن نے امریکا اور ”دہشت گردوں“ کے درمیان مذاکرات کی 20 سال پہلے ہی پیشگوئی کردی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ

2019ءامریکا اور افغان طالبان کے درمیان کوئی پیش رفت لائے گا؟ 2018ء کے آخری ماہ میں افغانستان میں امن کے لئے امید کی کرن پیدا ہوئی یہ امید کی کرن 2019ءمیں مشعل ر اہ بن سکتی ہے۔ اگر افغان طالبان سال نو پر سعودی عرب میں ہونے والے براہ راست امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں کوئی پیش رفت کرتے ہیں۔ امریکی حکام اپنی سی بہترین کوشش کررہے ہیں کہ کابل حکومت کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔ لیکن طالبان اس پر آمادہ نہیں۔ 20 سال قبل میں قندھار میں اسامہ بن لادن کےساتھ بیٹھا تھا۔ ان سے امریکیوں کے قتل کا فتویٰ جاری کرنے پر بحث ہورہی تھی یہ فتویٰ 1998 میں ایک عربی روزنامے میں شائع ہوا تھا جس پر اسامہ بن لادن اور کچھ دیگر جہادی رہنماؤں کے دستخط تھے۔ یہ فتویٰ دنیا بھر میں موضوع بحث بن گیا میں نے افغانستان پہنچ کر القاعدہ رہنما کا انٹرویو کیا۔ میں نے ان سے سادہ سا سوال کیا کہ آپ قرآن کی روشنی میں بے گناہ غیر مسلموں کے قتل کا حکم کیسے جاری کرسکتے ہیں؟ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جواز دینے میں ناکام رہے اور اسرائیلیوں کے لئے امریکی حمایت کی بات کرنا شروع کردی۔ انہوں

نے کہا امریکی فلسطینیوں پر ا سر ا ئیلی مظالم کیوں نہیں رکواتے میں نے ان سے کہا فلسطین ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی طور پر ہی حل کیا جاسکتا ہے، آپ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں مذاکرات کی حمایت کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے غصے سے میری تجویز مسترد کردی اور کہا کہ انہوں نے مذاکرات کے نام پر عربوں کو ہمیشہ دھوکہ ہی دیا۔ انہوں نے میرے کچھ سخت سوالات کو برداشت کیا لیکن ان کے طویل جوابات دیئے۔ 5 گھنٹے بعد میری آڈیو کیسٹس ختم ہوئیں اور انہیں بتایا کہ پورا انٹرویو (گفتگو) ایک اخباری انٹرویو میں سمویا نہیں جاسکتا لیکن کتابی شکل دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اپنی سوانح پر مبنی کتاب کے لئے مزید مواد دینے کا وعدہ کیا۔ 1998ءمیں اسامہ بن لادن دنیا کے مطلوب ترین شخص نہیں تھے اور کئی مغربی ناشر ان کی سوانح کی اشاعت پر آمادہ تھے۔ اس انٹرویو کے کچھ ہی دنوں بعد کینیا اور تنزانیہ کے امریکی سفارتخانوں پر بموں سے حملے ہوئے۔ ہر ایک کا شک القاعدہ پر گیا۔ میرا ان سے رابطہ ٹوٹ گیا اور کتاب میں تاخیر ہوگئی۔ سانحہ 9/11 کے بعد میں اپنی زندگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے امریکی فضائی بمباری کے عین درمیان افغانستان

گیا۔ اکتوبر 2001ء میں تیسری بار اسامہ بن لادن کا انٹرویو کیا یہ انٹرویو ڈان میں شائع ہوا۔ یہ ان کا کسی صحافی کو دیا گیا آخری انٹرویو تھا۔ اب وہ دنیا کو کیمیائی اور ایٹمی حملوں کی دھمکیاں دینے و الے انتہائی مطلوب ترین شخص تھے۔ لیکن اس کے باوجود اپنے آخری انٹرویو میں سمجھوتے کا بھی پیغام دیا۔ انہوں نے کہا میں امریکی عوام سے کہتا ہوں کہ وہ مسلم دشمن پالیسیاں ختم کرنے کے لئے اپنی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ جیسا کہ انہوں نے و یت نام جنگ کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا ”جیو اور جینے دو“ تنازع کے سیاسی حل کے جواب میں انہوں نے اس کے امکان کو کبھی رد نہیں کیاواضح رہے کہ انہوں نے 1998ءکے انٹرویو میں سیاسی حل کی مخالفت کی تھی۔ انٹرویو ختم ہونے کے بعد اسامہ نے کتاب کے بارے میں استفسار کیا میں نے انہیں بتایا اس میں مزید وقت لگے گا کیونکہ میری تمام دعوؤں کے بارے میں اپنی ریسرچ اور انوسٹی گیشن جاری ہے۔ اسامہ بن لادن نے ہنسنا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا امریکی ہمیں دہشتگرد کہتے ہیں اور تمہاری حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ان کی حامی ہے۔ میرے الفاظ یاد رکھو، امریکیوں کو یہاں خفت اور شرمندگی

کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں شکست ہوگی اور وہ دہشت گردو ں سے مذاکرات پر آمادہ ہوں گے۔ القاعدہ اور طالبان سے مذاکرات کے امکان پر اسامہ بن لادن کے انٹرویو نے مغرب میں بحث چھیڑ دی۔ ہارورڈ سے برکلے تک متعدد امریکی جامعات نے مجھے مدعو کیا اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے مذاکرات کے امکان کو قطعی مسترد کردیا۔ امریکی جامعات کے اساتذہ اور طلبا کو دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کے امکان میں بھی بڑی دلچسپی تھی۔ میں نے ہمیشہ انہیں بتایا جب اسرائیلی ایک دہشتگرد یاسرعرفات سے بات کرسکتے ہیں۔ اگر جنوبی افریقا کی نسل پرست سفید فام حکومت سیاہ فام دہشت گرد نیلسن منڈیلا سے مذاکرات کرسکتی ہے۔ امریکی حکومت بھی کم از کم افغان طالبان سے ڈائیلاگ کرسکتی ہے جن کا کوئی عالمی جہادی ایجنڈا نہیں ہے۔ 2006ءمیں اسامہ بن لادن نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کے ذریعہ آڈیو پیغام جاری کیا جس میں پہلی بار واضح طور پر امریکا کو سمجھوتے کی پیشکش کی گئی انہوں نے اپنی اس پیشکش کو عراق سے امریکی فوجی انخلا سے مشروط کیا۔ امریکیوں نے اس پیشکش کو مسترد کردیا لیکن سیکورٹی ماہرین نے امریکا اور برطانیہ کو

القاعدہ اور طالبان دونوں سے بات چیت کی تجویز دی۔ ایم آئی، فائیو کی سابق سربراہ بیرونیس الیزامیننگھم بلر نے کہا امریکیوں کو القاعدہ سے بات کرنی چاہئے۔